تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 191
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۱ سورة الاعراف گناہ کے لیے خواہ وہ ظاہر کا ہو خواہ باطن کا خواہ اسے علم ہو یا نہ ہو اور ہاتھ اور پاؤں اور زبان اور ناک اور کان اور آنکھ اور سب قسم کے گناہوں سے استغفار کرتا رہے آج کل آدم علیہ السلام کی دعا پڑھنی چاہیے: ربنا سكتة ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرُ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِیرین۔یہ دعا اول ہی قبول ہو چکی ہے۔( البدر جلد نمبر ۹ مورخه ۲۶ دسمبر / ۱۹۰۲ء صفحه ۶۶) دعا ایسی شے ہے کہ جب آدم کا شیطان سے جنگ ہوا تو اس وقت سوائے دعا کے اور کوئی حربہ کام نہ آیا آخر شیطان پر آدم نے فتح بذریعہ دعا کے پائی: رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرُ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَ من الخرين ( بدر جلد ۲ نمبر ۱۰ مورخہ ۲۷ / مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۷۷) ہمارا اعتقاد ہے کہ خدا نے جس طرح ابتدا میں دعا کے ذریعہ سے شیطان کو آدم کے ذریعہ زیر کیا تھا اسی طرح اب آخری زمانہ میں بھی دعا ہی کے ذریعہ سے غلبہ اور تسلط عطا کرے گا نہ تلوار سے۔۔۔۔۔آدم اول کو شیطان پر فتح دعا ہی سے ہوئی تھی : ربَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا۔۔۔۔۔۔الخ اور آدم ثانی کو بھی جو آخری زمانہ میں شیطان سے آخری جنگ کرتا ہے۔اسی طرح دعا ہی کے ذریعہ فتح ہوگی۔الحکم جلد نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۸) اگر خدا پر تمہارا کامل ایمان ہو تو پھر تو تمہارا یہ مذہب ہونا چاہیے کہ هر چه از دوست میرسد نیکوست۔اور اس ایمان والے کے شیطان قریب بھی نہیں آتا وہ بھی تو وہاں ہی آجاتا ہے جہاں اس کو تھوڑی سی بھی گنجائش مل جاتی ہے جب خدا کو مقدم رکھا جائے تو برکات کا نزول ہوتا ہے۔۔۔۔یہ باتیں اور کامل ایمان حاصل ہوتا ہے تو بہ استغفار ہے۔اس کی کثرت کرو اور ربنا ظلمنا انْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرُ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لتكونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ پڑھا کرو اور اس کی کثرت کرو۔(البدر جلد ۳ نمر ۲۵،۲۴ مورخه ۲۴ تا یکم نومبر ۱۹۰۴ء صفحه ۳) قَالَ اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَ مَتَاعُ إِلَى حِينٍ ۲۵ تمہارے قرار کی جگہ زمین ہی رہے گی پھر کیوں کر ہو سکتا ہے کہ حضرت عیسی کی قرارگاہ صد ہا برس سے آسمان ہو۔“ برائین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۰۰ حاشیه ) یعنی تمہارا قرار گاہ زمین ہی رہے گی۔(تحفہ گولر و سیہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۹۱)