تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 185
۱۸۵ سورة الانعام تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لائق ہے۔تناسخ کے ماننے والے تو ایسے شخص کا دنیا میں دوبارہ آنا تجویز کرتے ہیں جس کے تزکیہ نفس میں کچھ کسر رہ گئی ہو لیکن جو لوگ بکلی مراحل کمالات طے کر کے اس دنیا سے سفر کرتے ہیں وہ بزعم ان کے ایک مدت دراز کے لئے مکتی خانہ میں داخل کئے جاتے ہیں۔ماسوائے اس کے ہمارے عقیدہ کے موافق خدائے تعالی کا بہشتیوں کے لئے یہ وعدہ ہے کہ وہ کبھی اس سے نکالے نہیں جائیں گے پھر تعجب کہ ہمارے علماء کیوں حضرت مسیح کو اس فردوسِ بریں سے نکالنا چاہتے ہیں آپ ہی یہ قصے سناتے ہیں کہ حضرت اور میں جب فرشتہ ملک الموت سے اجازت لے کر بہشت میں داخل ہوئے تو ملک الموت نے چاہا کہ پھر باہر آویں لیکن حضرت اور کیس نے باہر آنے سے انکار کیا اور یہ آیت سنادی: وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِينَ ( الحجر : ۴۹ ) اب میں پوچھتا ہوں کہ کیا حضرت مسیح اس آیت سے فائدہ حاصل کرنے کے مستحق نہیں ہیں کیا یہ آیت اُن کے حق میں منسوخ کا حکم رکھتی ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ وہ اس لئے اس تنزل کی حالت میں بھیجے جائیں گے کہ بعض لوگوں نے انہیں ناحق خدا بنایا تھا تو یہ اُن کا قصور نہیں ہے لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أَخْرى (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۷ ۱۴ تا ۱۴۹) جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخم کاری سے مجروح ہوئے تو صہیب رضی اللہ عنہ روتے ہوئے ان کے پاس گئے کہ ہائے میرے بھائی ! ہائے میرے دوست ! عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے صہیب ! مجھ پر تو روتا ہے کیا تجھے یاد نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میت پر اس کے اہل کے رونے سے عذاب کیا جاتا ہے پھر جب حضرت عمر وفات پاگئے تو حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ میں نے یہ سب حال حدیث پیش کرنے کا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو سنایا تو انہوں نے کہا کہ خدا عمر پر رحم کرے بخد اکبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا بیان نہیں فرمایا کہ مومن پر اس کے اہل کے رونے سے عذاب کیا جاتا ہے اور فرمایا کہ تمہارے لئے قرآن کافی ہے۔اللہ جل شانہ فرماتا ہے: لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى یعنی حضرت عائشہ صدیقہ نے باوجود محدود علم کے فقط اس لئے قسم کھائی کہ اگر اس حدیث کے ایسے معنے کئے جائیں کہ خواہ نخواہ ہر ایک میت اس کے اہل کے رونے سے معذ ب ہوتی ہے تو یہ حدیث قرآن کے مخالف اور معارض ٹھہرے گی اور جو حدیث قرآن کے مخالف ہو وہ قبول کے لائق نہیں۔الحق مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۰۹ حاشیه ) قرآن شریف پر حدیث کو قاضی بنانا سخت غلطی ہے اور قرآن شریف کی بے ادبی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک بڑھیا نے حدیث پیش کی تو انہوں نے یہی کہا کہ میں ایک بڑھیا کے لیے قرآن نہیں چھوڑ