تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 183
۱۸۳ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورۃ الانعام معمار لگانے کی طاقت نہیں رکھتا تو اس صورت میں اگر ایک معمار اس پر رحم کر کے اس کا گھر بنانے میں مشغول ہو جائے اور بغیر لینے اُجرت کے چند روز سخت مشقت اٹھا کر اس کا گھر بنا دیوے تو بیشک یہ معمار تعریف کے قابل ہوگا۔اور بیشک اس نے ایک مسکین پر احسان بھی کیا ہے جس کا گھر بنا دیا۔لیکن اگر وہ اس شخص پر رحم کر کے اپنے سر پر پتھر مارلے تو اس غریب کو اس سے کیا فائدہ پہنچے گا۔افسوس! دنیا میں بہت تھوڑے لوگ ہیں جو نیکی اور رحم کرنے کے معقول طریقوں پر چلتے ہیں۔اگر یہ سچ ہے کہ یسوع نے اس خیال سے کہ میرے مرنے سے لوگ نجات پا جائیں گے در حقیقت خود کشی کی ہے تو یسوع کی حالت نہایت ہی لائق رحم ہے اور یہ واقعہ پیش کرنے کے لائق نہیں بلکہ چھپانے کے لائق ہے۔اور اگر ہم عیسائیوں کے اس اصول کو لعنت کے مفہوم کے رو سے جانچیں جو سیح کی نسبت تجویز کی گئی ہے تو نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس اصول کو قائم کر کے عیسائیوں نے یسوع مسیح کی وہ بے ادبی کی ہے جود نیا میں کسی قوم نے اپنے رسول یا نبی کی نہیں کی ہوگی کیونکہ یسوع کا لعنتی ہو جانا گو وہ تین دن کے لئے ہی سہی عیسائیوں کے عقیدہ میں داخل ہے۔اور اگر یسوع کو لعنتی نہ بنایا جائے تو مسیحی عقیدہ کے رو سے کفارہ اور قربانی وغیرہ سب باطل ہو جاتے ہیں۔گویا اس تمام عقیدہ کا شہتیر لعنت ہی ہے۔اور یہ باتیں جو یسوع نوع انسان کی محبت کیلئے دنیا میں بھیجا گیا اور نوع انسان کی خاطر اس نے اپنے تئیں قربان کیا۔یہ تمام کارروائی عیسائیوں کے خیال میں اس شرط سے مفید ہے کہ جب یہ عقیدہ رکھا جائے کہ یسوع اول دنیا کے گناہوں کے باعث ملعون ہوا اور لعنت کی لکڑی پر لٹکایا گیا۔اسی لئے ہم پہلے اشارہ کر آئے ہیں کہ یسوع مسیح کی قربانی لعنتی قربانی ہے۔گناہ سے لعنت آئی اور لعنت سے صلیب ہوئی۔اب تنقیح طلب یہ امر ہے کہ کیا لعنت کا مفہوم کسی راستباز کی طرف منسوب کر سکتے ہیں؟ سو واضح ہو کہ عیسائیوں نے یہ بڑی غلطی کی ہے کہ یسوع کی نسبت لعنت کا اطلاق جائز رکھا۔گو وہ تین دن تک ہی ہو یا اس سے بھی کم۔کیونکہ لعنت ایک ایسا مفہوم ہے جو شخص ملعون کے دل سے تعلق رکھتا ہے اور کسی شخص کو اس وقت لعنتی کہا جاتا ہے جبکہ اس کا دل خدا سے بالکل برگشتہ اور اس کا دشمن ہو جائے۔اسی لئے لعین شیطان کا نام ہے اور اس بات کو کون نہیں جانتا کہ لعنت قرب کے مقام سے رڈ کرنے کو کہتے ہیں۔اور یہ لفظ اس شخص کے لئے بولا جاتا ہے جس کا دل خدا کی محبت اور اطاعت سے دور جا پڑے اور در حقیقت وہ خدا کا دشمن ہو جائے۔لفظ لعنت کے یہی معنے ہیں جس پر تمام اہل لغت نے اتفاق کیا ہے۔اب ہم پوچھتے ہیں کہ اگر در حقیقت یسوع مسیح پر لعنت