تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 182
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۲ سورة الانعام اور بڑی آسانی سے ان مواد کو دفع کرتا ہے اور خدا میں ہو کر پاک نشو ونما پاتا جاتا ہے اور بہت پھیلتا اور خوشنما سرسبزی دکھلاتا اور اچھے پھل لاتا ہے۔مگر جو خدا میں پیوستہ نہیں وہ نشو و نما دینے والے پانی کو چوس نہیں سکتا اس لئے دم بدم خشک ہوتا چلا جاتا ہے۔آخر پتے بھی گر جاتے ہیں اور خشک اور بد شکل ٹہنیاں رہ جاتی ہیں۔پس چونکہ گناہ کی خشکی بے تعلقی سے پیدا ہوتی ہے اس لئے اس خشکی کے دور کرنے کے لئے سیدھا علاج مستحکم تعلق ہے۔جس پر قانون قدرت گواہی دیتا ہے۔اسی کی طرف اللہ جل شانہ اشارہ کر کے فرماتا ہے : يَايَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْنَةُ ارْجِعِى إلى ربّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلَى فِي عِبْدِى وَادْخُلِي جَنَّتِي (الفجر : ۲۸ تا ۳۱)۔یعنی اے وہ نفس جو خدا سے آرام یافتہ ہے اپنے رب کی طرف واپس چلا آ وہ تجھ سے راضی اور تو اس سے راضی پس میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میرے بہشت کے اندرآ۔غرض گناہ کے دور کرنے کا علاج صرف خدا کی محبت اور عشق ہے۔لہذا وہ تمام اعمال صالحہ جو محبت اور عشق کے سرچشمہ سے نکلتے ہیں گناہ کی آگ پر پانی چھڑکتے ہیں کیونکہ انسان خدا کیلئے نیک کام کر کے اپنی محبت پر مہر لگاتا ہے۔خدا کو اس طرح پر مان لینا کہ اس کو ہر ایک چیز پر مقدم رکھنا یہاں تک کہ اپنی جان پر بھی۔یہ وہ پہلا مرتبہ محبت ہے جو درخت کی اس حالت سے مشابہ ہے جبکہ وہ زمین میں لگایا جاتا ہے۔اور پھر دوسرا مرتبہ استغفار جس سے یہ مطلب ہے کہ خدا سے الگ ہو کر انسانی وجود کا پردہ نہ کھل جائے۔اور یہ مرتبہ درخت کی اس حالت سے مشابہ ہے جبکہ وہ زور کر کے پورے طور پر اپنی جڑ زمین میں قائم کر لیتا ہے۔اور پھر تیسرا مرتبہ تو بہ جو اس حالت کے مشابہ ہے کہ جب درخت اپنی جڑیں پانی سے قریب کر کے بچہ کی طرح اس کو چوستا ہے۔غرض گناہ کی فلاسفی یہی ہے کہ وہ خدا سے جدا ہو کر پیدا ہوتا ہے لہذا اس کا دور کرنا خدا کے تعلق سے وابستہ ہے۔پس وہ کیسے نادان لوگ ہیں جو کسی کی خود کشی کو گناہ کا علاج کہتے ہیں۔یہ ہنسی کی بات ہے کہ کوئی شخص دوسرے کے سردرد پر رحم کر کے اپنے سر پر پتھر مار لے۔یا دوسرے کے کہ بچانے کے خیال سے خود کشی کر لے۔میرے خیال میں ہے کہ دنیا میں کوئی ایسا دا نا نہیں ہو گا کہ ایسی خود کشی کو انسانی ہمدردی میں خیال کر سکے۔بیشک انسانی ہمدردی عمدہ چیز ہے اور دوسروں کے بچانے کیلئے تکالیف اٹھانا بڑے بہادروں کا کام ہے۔مگر کیا ان تکلیفوں کے اٹھانے کی یہی راہ ہے جو یسوع کی نسبت بیان کیا ا جاتا ہے۔کاش اگر یسوع خود کشی سے اپنے تئیں بچاتا اور دوسروں کے آرام کیلئے معقول طور پر عقلمندوں کی طرح تکلیفیں اٹھاتا تو اس کی ذات سے دنیا کو فائدہ پہنچ سکتا تھا۔مثلاً اگر ایک غریب آدمی گھر کا محتاج ہے اور