تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 181

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۱ سورة الانعام پس واضح ہو کہ عیسائیوں کا یہ اصول کہ خدا نے دنیا سے پیار کر کے دنیا کو نجات دینے کے لئے یا انتظام کیا کہ نافرمانوں اور کافروں اور بدکاروں کا گناہ اپنے پیارے بیٹے یسوع پر ڈال دیا اور دنیا کو گناہ سے چھڑانے کیلئے اس کو لعنتی بنایا اور لعنت کی لکڑی سے لڑکا یا۔یہ اصول ہر ایک پہلو سے فاسد اور قابل شرم ہے۔اگر میزان عدل کے لحاظ سے اس کو جانچا جائے تو صریح یہ بات ظلم کی صورت میں ہے کہ زید کا گناہ بکر پر ڈال دیا جائے۔انسانی کانشنس اس بات کو ہرگز پسند نہیں کرتا کہ ایک مجرم کو چھوڑ کر اس مجرم کی سز ا غیر مجرم کو دی جائے۔اور اگر روحانی فلاسفی کے رو سے گنہ کی حقیقت پر غور کی جائے تو اس تحقیق کے رو سے بھی یہ عقیدہ فاسد ٹھہرتا ہے کیونکہ گناہ درحقیقت ایک ایسا زہر ہے جو اس وقت پیدا ہوتا ہے کہ جب انسان خدا کی اطاعت اور خدا کی پر جوش محبت اور محبانہ یا دالہی سے محروم اور بے نصیب ہو اور جیسا کہ ایک درخت جب زمین سے اکھر جائے اور پانی چوسنے کے قابل نہ رہے تو وہ دن بدن خشک ہونے لگتا ہے اور اس کی تمام سرسبزی برباد ہو جاتی ہے۔یہی حال اس انسان کا ہوتا ہے جس کا دل خدا کی محبت سے اکھڑا ہوا ہوتا ہے۔پس خشکی کی طرح گناہ اس پر غلبہ کرتا ہے۔سو اس خشکی کا علاج خدا کے قانون قدرت میں تین طور سے ہے ؟ (۱) ایک محبت (۲) استغفار جس کے معنے ہیں دبانے اور ڈھانکنے کی خواہش کیونکہ جب تک مٹی میں درخت کی جڑ جمی رہے تب تک وہ سرسبزی کا امیدوار ہوتا ہے۔(۳) تیسر ا علاج تو بہ ہے۔یعنی زندگی کا پانی کھینچنے کے لئے تذلل کے ساتھ خدا کی طرف پھرنا اور اس سے اپنے تئیں نزدیک کرنا اور معصیت کے حجاب سے اعمال صالحہ کے ساتھ اپنے تئیں باہر نکالنا اور تو بہ صرف زبان سے نہیں ہے بلکہ تو بہ کا کمال اعمال صالحہ کے ساتھ ہے۔تمام نیکیاں تو بہ کی تکمیل کے لئے ہیں کیونکہ سب سے مطلب یہ ہے کہ ہم خدا سے نزدیک ہو جائیں۔دعا بھی تو بہ ہے کیونکہ اس سے بھی ہم خدا کا قرب ڈھونڈتے ہیں۔اسی لئے خدا نے انسان کی جان کو پیدا کر کے اس کا نام روح رکھا کیونکہ اس کی حقیقی راحت اور آرام خدا کے اقرار اور اس کی محبت اور اس کی اطاعت میں ہے۔اور اس کا نام نفس رکھا ہیں کیونکہ وہ خدا سے اتحاد پیدا کر نیوالا ہے۔خدا سے دل لگانا ایسا ہوتا ہے جیسا کہ باغ میں وہ درخت ہوتا ہے جو باغ کی زمین سے خوب پیوستہ ہوتا ہے۔یہی انسان کا جنت ہے اور جس طرح درخت زمین کے پانی کو چوستا اور اپنے اندر کھینچتا اور اس سے اپنے زہر یلے بخارات باہر نکالتا ہے اسی طرح انسان کے دل کی حالت ہوتی ہے کہ وہ خدا کی محبت کا پانی چوس کر زہریلے مواد کے نکالنے پر قوت پاتا ہے نوٹ بنفس لغت میں معین شے کے معنے رکھتا ہے۔منہ