تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 180
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۰ سورة الانعام ہوا ہے اس میں یہ اشارہ ہے کہ میری قربانی بھی تمام جہان کی بھلائی کے لئے ہے۔(عصمت انبیاء علیہم السلام، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۶۶۴ تا ۶۶۶) لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (۱۲۴) ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو اول المسلمین ٹھہرے تو اس کا یہی باعث ہوا کہ اوروں کی نسبت علوم معرفت الہی میں اعلم ہیں یعنی علم ان کا معارف الہیہ کے بارے میں سب سے بڑھ کر ہے اس لیے ان کا اسلام بھی سب سے اعلیٰ ہے اور وہ اول المسلمین ہیں۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۸۶، ۱۸۷) قُلْ اَغَيْرَ اللهِ أَبْغِى رَبَّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ وَ لَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ثُمَّ إِلى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُم فِيهِ تَخْتَلِفُونَ (۱۲۵) آیت اور حدیث میں باہم تعارض واقع ہونے کی حالت میں اصول مفسرین ومحد ثین یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حدیث کے معنوں میں تاویل کر کے اس کو قرآن کریم کے مطابق کیا جائے جیسا کہ صحیح بخاری کے کتاب الجنائز صفحہ ۱۷۲ میں صاف لکھا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ نے حدیث : إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذِّبُ ببغض ببكاء أهْلِه کو قرآن کریم کی اس آیت سے کہ : لا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى معارض و مخالف پا کر حدیث کی یہ تاویل کر دی کہ یہ مومنوں کے متعلق نہیں بلکہ کفار کے متعلق ہے جو متعلقین کے جزع فزع پر راضی تھے بلکہ وصیت کر جاتے تھے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۰۹) قرآن کوئی لعنتی قربانی پیش نہیں کرتا بلکہ ہرگز جائز نہیں رکھتا کہ ایک کا گناہ یا ایک کی لعنت کسی دوسرے پر ڈالی جائے چہ جائیکہ کروڑہا لوگوں کی لعنتیں اکٹھی کر کے ایک کے گلے میں ڈال دی جائیں۔قرآن شریف صاف فرماتا ہے کہ لا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ آخرای یعنی ایک کا بوجھ دوسرا نہیں اٹھائے گا۔لیکن قبل اس کے جو میں مسئلہ نجات کے متعلق قرآنی ہدایت بیان کروں مناسب دیکھتا ہوں کہ عیسائیوں کے اس اصول کی غلطی لوگوں پر ظاہر کر دوں تا وہ شخص جو اس مسئلہ میں قرآن اور انجیل کی تعلیم کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے وہ آسانی سے مقابلہ کر سکے۔