تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 175
۱۷۵ سورۃ الانعام تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کہہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا اس خدا کیلئے ہے جس کی ربوبیت تمام چیزوں پر محیط ہے کوئی چیز اور کوئی شخص اس کا شریک نہیں اور مخلوق کو کسی قسم کی شراکت اس کے ساتھ نہیں۔مجھے یہی حکم ہے کہ میں ایسا کروں اور اسلام کے مفہوم پر قائم ہونے والا یعنی خدا کی راہ میں اپنے وجود کی قربانی دینے والا سب سے اول میں ہوں۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۲۵) ان کو کہہ دے کہ میری عبادت اور میری قربانی اور میرا مرنا اور میرا جینا خدا کی راہ میں ہے یعنی اس کا جلال ظاہر کرنے کے لئے اور نیز اس کے بندوں کے آرام دینے کے لئے ہے تا میرے مرنے سے ان کو زندگی حاصل ہو۔اس جگہ جو خدا کی راہ میں اور بندوں کی بھلائی کے لئے مرنے کا ذکر کیا گیا ہے اس سے کوئی یہ خیال نہ کرے کہ آپ نے نعوذ باللہ ! جاہلوں یا دیوانوں کی طرح در حقیقت خود کشی کا ارادہ کر لیا تھا۔اس وہم سے کہ اپنے تئیں کسی آلہ سے قتل کے ذریعہ سے ہلاک کر دینا اوروں کو فائدہ پہنچائے گا بلکہ آپ ان بیہودہ باتوں کے سخت مخالف تھے اور قرآن ایسی خود کشی کے مرتکب کو سخت مجرم اور قابل سز ا ٹھہراتا ہے۔۔۔۔۔غرض اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعی ہمدردی اور محنت اٹھانے سے بنی نوع کی رہائی کے لئے جان کو وقف کر دیا تھا اور دُعا کے ساتھ اور تبلیغ کے ساتھ اور ان کے جور و جفا اٹھانے کے ساتھ اور ہر ایک مناسب اور حکیمانہ طریق کے ساتھ اپنی جان اور اپنے آرام کو اس راہ میں فدا کر دیا تھا۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۴۹٬۴۴۸) فَلأَجْلِ ذَالِكَ سُلمى الضَّحَاتِا اور اسی وجہ سے ان ذبح ہونے والے جانوروں کا نام قربانی قُرْبَانًا - بِمَا وَرَدَ إِنَّهَا تَزِيدُ قُرباً رکھا گیا کیونکہ حدیثوں میں آیا ہے کہ یہ قربانیاں خدا تعالیٰ کے ولفَيَانًا - كُلّ مَنْ قَرَّبَ الخلاصًا قرب اور ملاقات کا موجب ہیں اس شخص کے لئے کہ جو قربانی کو وَتَعَبدًا وَإِيْمَانًا - وَإِنَّهَا مِنْ أَعْظَمِ اخلاص اور خدا پرستی اور ایمان داری سے ادا کرتا ہے اور یہ نُسُكِ الشَّرِيعَةِ - وَلِذَالِكَ سُمیت قربانیاں شریعت کی بزرگ تر عبادتوں میں سے ہیں اور اسی لئے بِالنَّسِيكَةِ وَالنُّسُك : الطاعَةُ قربانی کا نام عربی میں نسيكة ہے اور نسك کا لفظ عربی زبان وَالْعِبَادَةُ فِي اللّسَانِ الْعَرَبِيَّةِ - میں فرمانبرداری اور بندگی کے معنوں میں آتا ہے اور ایسا ہی یہ وَكَذَالِكَ جَاءَ لَفظ النُّسُكِ يمغنى لفظ يعنى نُسُك ان جانوروں کے ذبح کرنے پر بھی زبان مذکور ذج النَّبِيْعَةِ- فَهَلَ الإشتراك میں استعمال پاتا ہے جن کا ذبح کرنا مشروع ہے۔پس یہ