تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 176
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الانعام يَدُلُّ قطعًا عَلى أَنَّ الْعَابِدَ فِي اشتراک کہ جو نُسُك کے معنوں میں پایا جاتا ہے قطعی طور پر اس بات الْحَقِيقَةِ هُوَ الَّذِي ذَبَحَ نَفْسَه پر دلالت کرتا ہے کہ حقیقی پرستار اور سچا عابد وہی شخص ہے جس نے اپنے وَقُوَاهُ وَكُلّ مَنْ أَصْبَاهُ لِرِ طی نفس کو مع اس کی تمام قوتوں اور مع اس کے اُن محبوبوں کے جن کی رَبِّ الْخَلِيقَةِ وَ ذَبَّ الْهَوَى طرف اُس کا دل کھینچا گیا ہے اپنے رب کی رضا جوئی کیلئے ذبح کر ڈالا حتى تهافت والمخی وَذَابَ ہے اور خواہش نفسانی کو دفع کیا یہاں تک کہ تمام خواہشیں پارہ پارہ ہو وَغَابَ وَاخْتَفى وَهَبَّتْ عَلَيْهِ کر گر پڑیں اور نابود ہو گئیں اور وہ خود بھی گداز ہو گیا اور اس کے وجود کا عَوَاصِفُ الفَنَاءِ وَسَفَتْ کچھ نمود نہ رہا اور چھپ گیا اور فنا کی تند ہوائیں اس پر چلیں اور اس کے ذَرَّاتِهِ شَدَائِدُ هَذِهِ الْهَوْجَاءِ - وجود کے ذرات کو اس ہوا کے سخت دھکے اُڑا کر لے گئے۔اور جس وَمَنْ فَكَرَ في هذين شخص نے ان دونوں مفہوموں میں کہ جو باہم نسٹ کے لفظ میں هَذَيْنِ الْمَفْهُو مَيْنِ الْمُشْتر گئیں۔مشارکت رکھتے ہیں غور کی ہوگی اور اس مقام کو تدبر کی نگاہ سے دیکھا وَتَدَبَّرَ الْمَقَامَ بِتَيَقُطِ الْقَلْب ہوگا اور اپنے دل کی بیداری اور دونوں آنکھوں کے کھولنے سے پیش و پس وَفَتْحِ الْعَيْنَيْنِ - فَلا ینی له کو زیر نظر رکھا ہوگا پس اُس پر پوشیدہ نہیں رہے گا اور اس امر میں کسی خِفَاءُ وَلَا مِرَاءُ - في آن هذا قسم کی نزاع اس کے دامن کو نہیں پکڑے گی کہ یہ دو معنوں کا اشتراک کہ إِيمَا - إلى أَنَّ الْعِبَادَةَ جو نُسُك كے لفظ میں پایا جاتا ہے اس بھید کی طرف اشارہ ہے کہ عبادت الْمُنْجِيَّةَ مِنَ الْخَسَارة هي جو آخرت کے خسارہ سے نجات دیتی ہے وہ اس نفس امارہ کا ذبح کرنا ذَبِّحُ النَّفْسِ الْأَمَارَةِ - وَنَحْرُهَا ہے کہ جو بُرے کاموں کیلئے زیادہ سے زیادہ جوش رکھتا ہے اور ایسا حاکم يمدَى الْإِنْقِطَاعِ إلى الله ذی ہے کہ ہر وقت بدی کا حکم دیتارہتا ہے پس نجات اس میں ہے کہ اس برا حکم الا لاءِ وَالْأَمْرِ وَالْإِمَارَةِ مَعَ دینے والے کو انقطاع الی اللہ کے کاردوں سے ذبح کر دیا جائے اور تَحَملِ انْوَاعِ الْمَرَارَةِ - لِتَدْجُو خلقت سے قطع تعلق کر کے خدا تعالیٰ کو اپنا مونس اور آرام جاں قرار دیا النَّفْسُ مِنْ مَوْتِ الْغَرَارَةِ جائے اور اس کے ساتھ انواع اقسام کی تلخیوں کی برداشت بھی کی جائے وَهَذَا هُوَ مَعْنَى الْإِسْلَام - تانفس غفلت کی موت سے نجات پاوے اور یہی اسلام کے معنے ہیں وَحَقِيقَةُ الْإِنْقِيَادِ الشام - اور یہی کامل اطاعت کی حقیقت ہے۔(ترجمہ اصل کتاب سے ) خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۳۳ تا ۳۵)