تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 168
۱۶۸ سورة الانعام تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنکھیں فرط تعصب اور مخلوق پرستی سے اندھی ہوگئی ہیں ورنہ طبائع مختلفہ کا مسئلہ یہاں تک ثابت ہے کہ حکماء نے جب اس بارہ میں تحقیق کی تو متواتر تجربوں سے ان پر یہ امر کھل گیا کہ بزدل یا شجاع ہونا اور طبعاً ممسک ہونا یا سنی ہونا اور ضعیف العقل یا قوی العقل ہونا اور دنی الہمت یا رفیع الہمت ہونا اور بردبار یا مغلوب الغضب ہونا اور فاسد الخیال یا صالح الخیال ہونا یہ اس قسم کے عوارض نہیں ہیں کہ سرسری اور اتفاقی ہوں بلکہ صانع قدیم نے بنی آدم کی کیفیت مواد اور کمیت اخلاط اور سینہ اور دل اور کھوپڑی کی وضع خلقت میں مختلف طور پر طرح طرح کے فرق رکھے ہیں۔انہیں فرقوں کے باعث سے افراد انسانی کی قومی اخلاقیہ اور عقلیہ میں فرق بین نظر آتا ہے۔اس قدیم رائے کو ڈاکٹروں نے بھی تسلیم کر لیا ہے۔ان کا بھی یہ قول ہے کہ چوروں اور ڈاکوؤں کی کھو پر یوں کو جب غور سے دیکھا گیا تو ان کی وضع ترکیب ایسی پائی گئی جو اسی فرقہ فاسد الخیال سے مخصوص ہے۔بعض یونانیوں نے اس سے بھی کچھ بڑھ کر لکھا ہے۔بعض گردن اور آنکھ اور پیشانی اور ناک اور دوسرے کئی اعضاء سے بھی اندرونی حالات کا استنباط کرتے ہیں۔بہر حال یہ ثابت ہو چکا ہے اور اس کے ماننے سے کچھ چارہ نہیں کہ بنی آدم کا خلقی اور عقلی استعدادوں میں فطرتی تفاوت واقع ہے اور ہر یک نفس کسی قدر صلاحیت کی طرف تو قدم رکھتا ہے۔مگر اپنی قابلیت کے دائرہ سے زیادہ نہیں۔( براہینِ احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۱۸۱ تا ۱۸۴ حاشیہ نمبر ۱۱) جب کوئی نشان پاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم کبھی نہیں مانیں گے جب تک ہمیں خود ہی وہ باتیں حاصل نہ ہوں جو رسولوں کو ملتی ہیں۔ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۴۲) ذرا غور کرنے سے انسان سمجھ سکتا ہے کہ جسے خدا تعالیٰ مامور کرتا ہے ضرور ہے کہ اس کے لیے اجتبا اور اصطفا ہو اور کچھ نہ کچھ اس میں ضرور خصوصیت چاہیے کہ خدا تعالیٰ کل مخلوق میں سے اسے برگزیدہ کرے۔خدا کی نظر خطا جانے والی نہیں ہوتی پس جب وہ کسی کو منتخب کرتا ہے وہ معمولی آدمی نہیں ہوتا قرآن شریف میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے: اللهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ - اِنَّ مَا تُوعَدُونَ لَاتِ وَ مَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ۔الحکم جلد ۸ نمبر ۶ مورخه ۷ ارفروری ۱۹۰۴ صفحه ۱) جو کچھ تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے یعنی دین اسلام کا عزت کے ساتھ دنیا میں پھیل جانا اور اس کے روکنے