تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 162
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام أنا عَلَيْكُم بِحَفِيظ۔۱۶۲ سورۃ الانعام خدا نے میری رسالت پر روشن نشان تمہیں دیئے ہیں۔سو جو ان کو شناخت کرے اس نے اپنے ہی نفس کو فائدہ پہنچایا اور جو اندھا ہو جائے اس کا وبال بھی اسی پر ہے میں تو تم پر نگہبان نہیں۔(ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۴۲، ۴۴۳) b وَلا تَسْقُوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُوا اللَّهَ عَدُوا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذلِكَ زَيَّنَا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَيْنَيْتُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔1۔9) خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اس قدر ہمیں طریق ادب اور اخلاق کا سبق سکھلایا ہے کہ وہ فرماتا ہے که لَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوا بِغَيْرِ عِلم (سورۃ الانعام الجزوے) یعنی تم مشرکوں کے بتوں کو بھی گالی مت دو کہ وہ پھر تمہارے خدا کو گالیاں دیں گے کیونکہ وہ اس خدا کو جانتے نہیں۔اب دیکھو کہ باوجود یکہ خدا کی تعلیم کی رو سے بہت کچھ چیز نہیں ہیں مگر پھر بھی خدا مسلمانوں کو یہ اخلاق سکھلاتا ہے کہ بتوں کی بدگوئی سے بھی اپنی زبان بند رکھو اور صرف نرمی سے سمجھا ؤ ایسا نہ ہو کہ وہ لوگ مشتعل ہو کر خدا کو گالیاں نکالیں اور ان گالیوں کے تم باعث ٹھہر جاؤ۔(پیغام صلح ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۶۱،۴۶۰) وَ أَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَبِنْ جَاءَتْهُمْ آيَةٌ ليُؤْمِنُنَّ بِهَا قُلْ إِنَّمَا الأيتُ عِنْدَ اللهِ وَمَا يُشْعِرُ كُمُ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ ) یہ لوگ سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر کوئی نشان دیکھیں تو ضرور ایمان لے آئیں گے ان کو کہہ دے کہ نشان تو خدا تعالیٰ کے پاس ہیں اور تمہیں خبر نہیں کہ جب نشان بھی دیکھیں گے تو کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۳۳) قُلْ إِنَّمَا الأيتُ عِنْدَ اللہ یعنی ان کو کہہ دو کہ نشان اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں جس نشان کو چاہتا ہے اسی نشان کو ظاہر کرتا ہے بندہ کا اُس پر زور نہیں ہے کہ جبر کے ساتھ اس سے ایک نشان لیوے۔(جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۵۵) اقتراح کے نشانوں کو اللہ تعالی نے منع کیا ہے۔نبی کبھی جرات کر کے یہ نہیں کہے گا کہ تم جو نشان مجھ سے