تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 163
۱۶۳ سورۃ الانعام تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام مانگو میں وہی دکھانے کو طیار ہوں اس کے منہ سے جب نکلے گا یہی نکلے گا: إِنَّمَا الْأَيْتُ عِنْدَ اللهِ اور یہی اس کی صداقت کا نشان ہوتا ہے۔کم نصیب مخالف اس قسم کی آیتوں سے یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ معجزات سے انکار کیا گیا ہے مگر وہ آنکھوں کے اندھے ہیں ان کو معجزات کی حقیقت ہی معلوم نہیں ہوتی اس لیے وہ ایسے اعتراض کرتے ہیں اور نہ ذات باری کی عزت اور جبروت کا ادب ان کے دل پر ہوتا ہے ہمارا خدا تعالیٰ پر کیا حق ہے کہ ہم جو کہیں وہ وہی کر دے۔یہ سوء ادب ہے اور ایسا خدا خدا ہی نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔۔پس اقتراحی نشانات سے اس لیے منع کیا جاتا ہے اور روکا جاتا ہے کہ اس میں پہلی رگ سوء ادبی کی پیدا ہو جاتی ہے جو ایمان کی جڑ کاٹ ڈالتی ہے۔الحکم جلدے نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۳) وَ نُقَلِبُ أَفَدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَ نَذَرُهُمْ فِي 1991919 طغيانهم يعمهون۔نشانوں کے دکھلانے کا ذکر قرآن شریف میں جابجا آیا ہے بعض جگہ اپنے پہلے نشانوں کا حوالہ بھی دیا ہے دیکھو آیت كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ - ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۴۴) اَفَغَيْرَ اللهِ ابْتَغِى حَكَمًا وَ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَبَ مُفَصَّلًا وَالَّذِينَ اتَيْتُهُمُ الْكِتَبَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُ مُنَزِّلُ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُسْتَرِينَ۔جو کچھ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بیان فرمایا ہے وہی کچھ حدیث میں۔ہاں ! بعض باتوں کا استنباط ایسا اعلیٰ حدیثوں نے کیا ہے کہ دوسرے گو اس کو سمجھ نہیں سکتے ورنہ حدیث قرآن سے باہر نہیں۔خدا نے قرآن کا نام رکھا ہے مفصلاً اس پر ایمان ہونا چاہیے۔بعض تفاسیر سوائے انبیاء کے اور کی سمجھ نہیں آتیں پھر اس طرح حدیث میں قرآن سے زائد کچھ نہیں۔الحکم جلدے نمبر ۱۵ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱۲) کیا بجز خدا کے میں کوئی اور حکم طلب کروں اور وہ وہی ہے جس نے مفصل کتاب تم پر اُتاری اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب یعنی قرآن دیا ہے مراد یہ ہے کہ جن کو ہم نے علم قرآن سمجھایا ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ وہ منجانب اللہ ہے سوائے پڑھنے والے تو شک کرنے والوں میں سے مت ہو۔