تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 155
۱۵۵ سورة الانعام تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الْمَوْصُوفَةَ وَالْإِشَارَاتِ الْمَلْفُوفَةٌ مجھے مشاہدہ ہوا جو رب العالمین ہے اور میرے پر کھولا گیا عَهْدِى إِلى فَضَائِلِ الْعَرَبِيَّةِ وَتُشير إلى کہ آیت موصوفہ اور اشارات ملفوفہ عربی کے فضائل کی آنها أُمُّ الْأَلْسِنَةِ وَانَّ الْقُرآن قدر طرف ہدایت کرتی ہیں اور اس بات کی طرف اشارہ کرتی الْكُتُبِ السَّابِقَةِ وَأَنَّ مَكَّةَ اُم ہیں کہ وہ ام الالسنہ ہے اور قرآن پہلی کتابوں کا اُتم یعنی الْأَرْضِينَ۔فَاقْتَادَلي بُرُوقُ هَذِهِ الْآيَةِ اصل ہے اور مکہ تمام زمین کا اُم ہے۔سو مجھے اس آیت کی إلى أنواع التنظيسِ وَالرِّدَايَةِ۔وَفَهِمْتُ روشنی نے طرح طرح کے فہم اور درایت کی طرف کھینچا اور ير نُزُولِ الْقُرْآنِ في هَذَا اللَّسَانِ وَسر مجھے یہ بھید سمجھ آگیا کہ قرآن کیوں عربی زبان میں نازل خَمِ النُّبُوَّةِ عَلى خَيْرِ الْبَرِيَّةِ وَ خَشم ہوا اور یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو نبوت ختم ہوئی الْمُرْسَلِينَ۔ثُمَّ ظَهَرَتْ عَلَی آیات اس میں بھید کیا ہے پھر میرے پر اور آیتیں ظاہر ہوئیں اور أخْرَى وَأَيَّدَ بَعْضُهَا بَعْضًا تثرًا حَتَّى بعض نے بعض کی متواتر مدد کی یہاں تک کہ میرے خدا جَرى رَبِّي إِلى حَقَّ الْيَقِينِ۔وَادْخَلَنِي في نے حق الیقین تک مجھے کھینچ لیا اور یقین کرنے والوں میں الْمُسْتَيْقِنِينَ۔وَظَهَرَ عَلَى أَنَّ الْقُرْآنَ هُوَ مجھے داخل کیا اور میرے پر ظاہر ہو گیا کہ قرآن ہی پہلی تمام أم الكتب الأولى وَالْعَرَبِيَّةَ اُم کتابوں کی ماں ہے اور ایسا ہی عربی تمام زبانوں کی ماں الْأَلْسِنَةِ مِنَ الله الأعلى وَآمَا الْبَاقِيَّةَ اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور باقی زبانیں اس کی بیٹے مِنَ اللُّغَاتِ فَهِيَ لَهَا كَالْبَنِينَ بیٹیوں کی طرح ہیں اور کچھ شک نہیں کہ وہ تمام زبا نہیں اس أَوِ الْبَنَاتِ وَلَا شَكَ أَنَّهَا كَمِثْلِ وَلَدِهَا کے فرزندوں یا خانہ زاد کنیز کوں کی طرح ہیں اور ہر یک أوْ وَلَابِدِهَا وَكُلٌّ يَأْكُلُ مِنْ أَعْشَارِهَا اسی کی دیگوں اور اسی کے خوان میں سے کھا رہا ہے اور وَمَوَابِدِهَا وَكُلٌّ يَجْتَدُونَ فَاكِهَةَ هَذِهِ بر یک اس کے پھل چکھ رہا ہے اور اسی خوان سے اپنے اللُّهجَةِ وَيَمْلَكُونَ الْبُطُونَ بِتِلْكَ پیٹ بھر رہے ہیں اور اسی دریا سے پانی پی رہے ہیں اور الْمَائِدَةِ وَ يَشْرَبُونَ مِنْ تِلْكَ اللجةِ وَ اس حلہ سے انہوں نے اپنا لباس بنایا ہے اور وہ ان کی يَتَّخِذُونَ لِبَاسًا مِن هَذِهِ الْحَلَّةِ۔فَهى مربی ہے جس نے بعار بیت ان کو لباس دیا اور اپنی ذات مُرَبِّيَةٌ آعَارَهَا اللَّسْتَ وَاخْتَارَ کے لیے مسند اختیار کیا اور یہ بات کہ اگر عربی ام الالسنہ ہی لِنَفْسِهَا النَّسْتَ۔وَآقا اختلافی ہے تو زبانوں کی ترکیبوں میں کیوں اختلاف ہے تو یہ کچھ