تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xviii of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page xviii

xvii مضمون اگر ایک ایک خلق فرداً فرداً کسی میں ہو تو اسے متقی نہ کہیں جب تک بحیثیت مجموعی اخلاق فاضلہ اس میں نہ ہوں خدا پر افترا کرنے والا سب کافروں سے بڑھ کر کافر ہے یہودیوں کا ہرگز یہ اعتقاد نہیں کہ جو شخص مع جسم عنصری آسمان پر نہ جاوے وہ مومن نہیں لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ - مُفَتَحَةً لَهُمُ الْأَبْوَابُ - اب ان آیات میں لھم کا لفظ اجسام کو چاہتا ہے تو کیا یہ سب اس جسم عنصری کے ساتھ جاتے ہیں شیعوں کے مذہب کہ صحابہ کے درمیان آپس میں سخت دستم شمنی تھی کی نَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِل میں تردید میرا مذہب فرقہ ضالہ نیچریہ کی طرح یہ نہیں ہے کہ میں عقل کو مقدم رکھ کر قال اللہ وقال الرسول پر کچھ نکتہ چینی کروں ۔ قرآن کریم ہر یک وجہ سے احادیث پر مقدم ہے اور احادیث کی صحت و عدم صحت پر کھنے کے لیے وہ محک ہے عرش سے مراد خدا کی عظمت اور جبروت ہے اسی وجہ سے اس کو مخلوق چیزوں میں داخل نہیں کیا اعتراض کہ خدا عرش پر کرسی نشین ہے کا جواب قیامت کے دن عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائیں گے پر اعتراض کہ خدا تعالیٰ اس بات سے پاک اور برتر ہے کہ کوئی اس کے عرش کو اٹھاوے، کا جواب صفحه ۲۰۴ ۲۰۴ ۲۰۵ ۲۰۶ ۲۰۷ ۲۰۹ ۲۰۹ ۲۱۳ ۲۱۶ رشمار ۱۲۲ ۱۲۳ اله لد ۱۲۵ ۱۲۶ ۱۲۷ ۱۲۸ ۱۲۹ ۱۳۰ ۱۳۱