تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page xviii
صفحہ ۲۰۴ ۲۰۴ ۲۰۵ ۲۰۶ ۲۰۷ ۲۰۹ ۲۰۹ ۲۱۳ ۲۱۶ xvii نمبر شمار مضمون ۱۲۲ اگر ایک ایک خلق فردا فردا کسی میں ہو تو اسے متقی نہ کہیں جب تک بحیثیت ۱۲۳ مجموعی اخلاق فاضلہ اس میں نہ ہوں خدا پر افترا کرنے والا سب کافروں سے بڑھ کر کافر ہے ۱۲۴ یہودیوں کا ہرگز یہ اعتقاد نہیں کہ جوشخص مع جسم عنصری آسمان پر نہ جاوے وہ مومن نہیں ۱۲۵ لا تُفتَحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ - مُفَتَعَةٌ لَهُمُ الْأَبْوَابُ - اب ان آیات میں لھم کا لفظ اجسام کو چاہتا ہے تو کیا یہ سب اس جسم عصری کے ساتھ جاتے ہیں شیعوں کے مذہب کہ صحابہ کے درمیان آپس میں سخت دشمنی تھی کی نَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ عَل میں تردید ۱۲۷ میرا مذ ہب فرقه ضالہ نیچریہ کی طرح یہ نہیں ہے کہ میں عقل کو مقدم رکھ کر قال اللہ وقال الرسول پر کچھ نکتہ چینی کروں۔۱۲۸ قرآن کریم ہر یک وجہ سے احادیث پر مقدم ہے اور احادیث کی صحت و عدم صحت پر کھنے کے لیے وہ محک ہے ۱۲۹ ۱۳۱ عرش سے مراد خدا کی عظمت اور جبروت ہے اسی وجہ سے اس کو مخلوق چیزوں میں داخل نہیں کیا اعتراض کہ خدا عرش پر کرسی نشین ہے کا جواب قیامت کے دن عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائیں گے پر اعتراض کہ خدا تعالیٰ اس بات سے پاک اور برتر ہے کہ کوئی اس کے عرش کو اٹھاوے کا جواب