تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 143
۱۴۳ سورة الانعام تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ظلمت سے متاثر ہو کر ملا یک اور شیاطین کے وجود سے انکار کر بیٹھے ہیں اور بینات اور نصوص صریحہ قرآن کریم سے انکار کر دیا اور نادانی سے بھرے ہوئے الحاد کے گڑھے میں گر پڑے۔اور اس جگہ واضح رہے کہ یہ مسئلہ ان مسائل میں سے ہے جن کے اثبات کے لئے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے استنباط حقائق میں اس عاجز کو متفرد کیا ہے۔فالحمد للہ علی ذالک۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۷۹ تا ۸۹) قُلْ مَنْ يُنَجِّيْكُمْ مِنْ ظُلُمَتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُونَهُ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً لَبِنْ انجنا مِنْ هَذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّكِرِينَ اب ظاہر ہے کہ ان آیات کا حاصل مطلب یہی ہے کہ جب بعض گناہ گاروں کو ہلاک کرنے کے لیے خدا تعالیٰ اپنے قہری ارادہ سے اس دریا میں صورت طوفان پیدا کرتا ہے جس میں ان لوگوں کی کشتی ہو تو پھر ان کی تضرع اور رجوع پر ان کو بچالیتا ہے حالانکہ جانتا ہے کہ پھر وہ مفسدانہ حرکات میں مشغول ہوں گے۔کیا اس طوفان سے یہ غرض ہوتی ہے کہ کشتی والوں کو صرف خفیف خفیف چوٹیں لگیں مگر ہلاک نہ ہوں۔وو مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحه ۴۴۸) قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأسَ بَعْضٍ أَنْظُرُ كَيْفَ نُصَرِفُ الأيتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ ) کہہ وہ اس بات پر قادر ہے کہ تم کو نشان دکھلانے کے لیے اوپر سے کوئی عذاب نازل کرے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے کوئی عذاب نمودار ہو یا ایمان داروں کی لڑائی سے تم کو عذاب کا مزہ چکھاوے۔دیکھو ہم کیوں کر آیات کو پھیرتے ہیں تا وہ سمجھ لیں۔(براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۵۲ حاشیہ نمبر ۱۱) کہ وہی پروردگار اس بات پر قادر ہے کہ اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے کوئی عذاب تم پر بھیجے اور چاہے تو تمہیں دو فریق بنا کر ایک فریق کی لڑائی کا دوسرے کو مزہ چکھا دے۔(ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۴۳) یہ ضرور نہیں ہے کہ خدا ہر وقت ایک ہی رنگ میں عذاب دیوے۔قرآن شریف میں عذاب کے کئی