تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 137 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 137

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام دوو ۱۳۷ سورۃ الانعام وَلِتَسْتَبِيْنَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ : اور تا خدا کی حجت پوری ہو جائے اور مجرموں کی راہ کھل جائے۔دوو (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۵۸) وَلِتَسْتَبِيْنَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ : اور تا کہ مجرموں کی راہ کھل جائے یعنی معلوم ہو جائے کہ کون مجرم اور کون طالب حق ہے۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۸۶) قُلْ اِنّى عَلَى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّي وَ كَذَبْتُم بِهِ مَا عِنْدِى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلَّهِ - يَقُصُّ الْحَقِّ وَهُوَ خَيْرُ الْفَصِلِينَ (۵۸) مجھے اپنی رسالت پر کھلی کھلی دلیل اپنے رب کی طرف سے ملی ہے ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۲۵) کہہ میں کامل ثبوت لے کر اپنے رب کی طرف سے آیا ہوں اور تم اس ثبوت کو دیکھتے ہو اور پھر تکذیب کر رہے ہو۔جس چیز کو تم جلدی سے مانگتے ہو ( یعنی عذاب ) وہ تو میرے اختیار میں نہیں۔حکم اخیر صادر کرنا تو خدا ہی کا منصب ہے۔وہی حق کو کھول دے گا اور وہی خیر الفاصلین ہے جو ایک دن میرا اور تمہارا فیصلہ کر ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۴۲) دے گا۔وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلمتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ الا في كتب مُّبِينٍ میں نے کئی بار اشتہار دیا ہے کہ کوئی ایسی سچائی پیش کرو جو ہم قرآن شریف سے نہ نکال سکیں ، لا رطب و لا يابس إلا في كتب تبين۔یہ ایک نا پیدا کنار سمندر ہے اپنے حقائق اور معارف کے لحاظ سے اور اپنی فصاحت و بلاغت کے رنگ میں۔اگر بشر کا کلام ہو تا توسطحی خیالات کا نمونہ دکھایا جاتا مگر یہ طرز ہی اور ہے جو بشری طرزوں سے الگ اور ممتاز ہے۔اس میں باوجود اعلیٰ درجہ کی بلند پردازی کے نمود و نمائش بالکل نہیں۔الحکم جلد ۹ نمبر ۴۰ مورخه ۱۷ نومبر ۱۹۰۵ء صفحه ۹)