تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 133
۱۳۳ سورة الانعام تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہے اور نیز ان آیات بینات کی سچائی ان پر روشن ہو جاتی ہے جو اللہ جل شانہ فرماتا ہے جو قرآن کریم سے کوئی چیز باہر نہیں۔اگر چہ علاء ظاہر بھی ایک قبض کی حالت کے ساتھ ان آیات پر ایمان لاتے ہیں تا ان کی تکذیب لازم نہ آوے لیکن وہ کامل یقین اور سکینت اور اطمینان جو اہم کامل کو بعد معائنہ مطابقت و موافقت احادیث صحیحہ اور قرآن کریم اور بعد معلوم کرنے اس احاطہ نام کے جو در حقیقت قرآن کو تمام احادیث پر ہے ملتی ہے وہ علماء ظاہر کو کسی طرح مل نہیں سکتی بلکہ بعض تو قرآن کریم کو ناقص و نا تمام خیال کر بیٹھتے ہیں اور جن غیر محدود صداقتوں اور حقائق اور معارف پر قرآن کریم کے دائمی اور تمام تر اعجاز کی بنیاد ہے اس سے وہ منکر ہیں اور نہ صرف منکر بلکہ اپنے انکار کی وجہ سے ان تمام آیات بینات کو جھٹلاتے ہیں۔جن میں صاف صاف اللہ جل شانہ نے فرمایا ہے کہ قرآن جمیع تعلیمات دینیہ کا جامع ہے۔الحق مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۸۱٬۸۰) تعلیمات ضرور یہ میں سے کوئی چیز قرآن سے باہر نہیں رہی اور قرآن ایک مکمل کتاب ہے جو کسی دوسرے مکمل کا منتظر نہیں بناتا۔کوئی صداقت اس سے باہر نہیں۔(جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۸۶) کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۱۰) میں قرآن شریف سے یہ استنباط کرتا ہوں کہ سب انبیاء کے وصفی نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے گئے کیونکہ آپ تمام انبیاء کے کمالات متفرقہ اور فضائل مختلفہ کے جامع تھے اور اسی طرح جیسے تمام انبیاء کے کمالات آپ کو ملے قرآن شریف بھی جمیع کتب کی خوبیوں کا جامع ہے۔چنانچہ فرمایا : فِيهَا كُتُبُ قَيَّمَةُ (البينة : ٤) اور ما فرطنا في الكتب ایسا ہی ایک جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا ہے کہ تمام نبیوں کا اقتدا کر۔فَرَّطْنَا الحکم جلدے نمبر ۸ مورخه ۲۸ فروری ۱۹۰۳ء صفحه ۳) وَيَكْفِى لَكَ في شَأْنِ كِتَابِ الله ما اور کتاب اللہ کی شان کی نسبت جو اللہ نے اُس کی أنتى اللهُ عَلَيْهِ وَقَالَ: مَا فَرَّطْنَا في تعریف و توصیف فرمائی وہی تیرے لئے کافی ہے۔اُس الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ فِيْهِ تَفْصِيلُ كُلَّ نے فرمایا کہ: مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَبِ مِنْ شَيْءٍ۔اور یہ کہ شَنِي ، وَمَا جَاءَ في حَدِيثِ مُسْلِمٍ عَنْ زَيْدِ اس میں ہر چیز کی تفصیل موجود ہے۔اور جو مسلم کی حدیث بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ میں زید بن ارقم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِيْنَا خَطِيبًا بِمَاءِ ایک دن مکہ اور مدینہ کے درمیان غدیر خم پر ہمارے