تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 130 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 130

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورۃ الانعام أَذَانِهِمْ وَقْرًا وَإِنْ يَرَوْا كُلَ آيَةٍ لَا يُؤْمِنُوا بِهَا حَتَّى إِذَا جَاءُ وُكَ يُجَادِلُونَكَ يَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ ) ہیں۔(٢٦) یعنی یہ لوگ تمام نشانوں کو دیکھ کر ایمان نہیں لاتے۔پھر جب تیرے پاس آتے ہیں تو تجھ سے لڑتے ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۴۲) وَ لَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا لِلَيْتَنَا نُرَةٌ وَلَا نُكَذِبَ بِأَيْتِ رَبَّنَا وَتَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَ لَوْ تَرَى إِذْ وَقِفُوا عَلَى رَبِّهِمْ قَالَ الَّيْسَ هَذَا بِالْحَقِّ قَالُوا بَلَى وَرَبَّنَا قَالَ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ ) جس شخص نے کا فیہ یا ہدایت النو بھی پڑھی ہوگی وہ خوب جانتا ہے کہ ماضی مضارع کے معنوں پر بھی آجاتی ہے بلکہ ایسے مقامات میں جبکہ آنے والا واقعہ متکلم کی نگاہ میں یقینی الوقوع ہو مضارع کو ماضی کے صیغہ پر لاتے ہیں تا کہ اس امر کا یقینی الوقوع ہونا ظاہر ہو اور قرآن شریف میں اس کی بہت نظیریں ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَ لَوْ تَرَى اِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ (الانعام : ۲۸) اور جیسا کہ فرماتا ہے: وَ لَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُوا عَلى رَبِّهِمْ قَالَ اليْسَ هَذَا بِالْحَقِّ قَالُوا بَلَى وَرَبِّنَا۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۵۹) وَ لَقَد كُذِبَتْ رُسُلُ مِنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوا عَلَى مَا كَذِبُوا وَ أَوذُوا حَتَّى اَنتهُم نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَتِ اللهِ وَ لَقَدْ جَاءَكَ مِنْ نَبَاى الْمُرْسَلِينَ (۳۵) اور تجھ سے پہلے جو نبی آئے ان کی بھی تکذیب کی گئی تھی پس انہوں نے تکذیب پر صبر کیاور ایک مذت تک دکھ دیئے گئے یہاں تک کہ ہماری مدد ان کو پہنچ گئی چنانچہ گذشتہ رسولوں کی خبریں بھی تجھ کو آ چکی ہیں۔(براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۵۶) لا مُبَدِّلَ لِحلبت الله۔۔۔۔۔۔خدا کی باتیں کبھی نہیں ملیں گی اور کوئی نہیں جو ان کو روک سکے۔مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۵۹،۵۸)