تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 131 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 131

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۱ سورۃ الانعام لا مُبَدِّلَ لِكَلمت اللہ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو بدل دے۔لا مُبَدِّلَ لِكَلِمَتِ اللهِ۔۔۔۔۔۔خدا کی باتوں کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔(تحفہ گولر و سیہ، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۶۴) اربعین، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۶۱) وَإِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَبْتَغِي نَفَقًا فِي الْأَرْضِ أَوْ سلما فِي السَّمَاءِ فَتَأْتِيَهُمْ بِأَيَةٍ وَ لَوْ شَاءَ اللهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَى فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْجَهِلِينَ یعنی اگر تیرے پر (اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ) ان کافروں کا اعراض بہت بھاری ہے سو اگر تجھے طاقت ہے تو زمین میں سرنگ کھود کر یا آسمان پر زمینہ لگا کر چلا جا اور ان کے لیے کوئی نشان لے اور اگر خدا چاہتا تو ان سب کو جو نشان مانگتے ہیں ہدایت دے دیتا پس تو جاہلوں میں سے مت ہو۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۳۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہت جلد فیصلہ کفار کے حق میں چاہتے تھے مگر خدا تعالیٰ اپنے مصالح اور سنن کے لحاظ سے بڑے توقف اور حلم کے ساتھ کام کرتا ہے۔لیکن آخر کار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو ایسا کچلا اور پیسا کہ ان کا نام ونشان مٹا دیا۔اسی طرح پر ممکن ہے کہ ہماری جماعت کے بعض لوگ طرح طرح کی گالیاں ، افترا پردازیاں اور بد زبانیاں خدا تعالیٰ کے سچے سلسلے کی نسبت سن کر اضطراب اور استعمال میں پڑیں مگر انہیں خدا تعالی کی اس سنت کو جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ برتی گئی ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔اس لیے میں پھر اور بار بار بتا کید حکم کرتا ہوں کہ جنگ و جدال کے مجمعوں ،تحریکوں اور تقریبوں سے کنارہ کشی کرو۔اس لیے کہ جو کام تم کرنا چاہتے ہو یعنی دشمنوں پر حجت پوری کرنا وہ اب خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔الحکم جلد 4 نمبر ۲۰ مورخه ۳۱ رمئی ۱۹۰۲ صفحه ۵) وَقَالُوا لَو لَا نُزِّلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِنْ رَّبِّهِ قُلْ اِنَّ اللهَ قَادِرُ عَلَى أَنْ يُنَزِّلَ آيَةً وَ لكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ۔اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر کوئی نشانی اپنے رب کی طرف سے کیوں نازل نہ ہوئی کہہ خدا نشانوں کے