تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 119 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 119

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۱۹ سورة المائدة اند ۔ پس تا وقتیکه عیسی نمرده باشد عیسائیاں را چگو کس طرح گمراہ کہا جا سکتا ہے۔ علماء اور قوم کی عقل پر نہ گمراہ تواں گفت عجب است از عقل علماء قوم ما تعجب ہے کہ ہماری قوم اس آیت کی طرف توجہ کہ بسوئے ایس آیت توجه نمی کنند و نصوص صریحہ نہیں کرتے اور نصوص صریحہ کو چھوڑ دیتے ہیں اور اوہام کو را می گذارند و او هام را مذہب خود می گیرند اپنے مذہب کے طور پر اختیار کرتے ہیں ۔ غرض مردن عیسی علیه السلام از نصوص قرآنیه الغرض عیسی علیہ السلام کی وفات نصوص قرآنیہ اور وحدیثہ ثابت است و هیچ کس را مجال انکار نیست حدیثوں سے ثابت ہے اور ہے اور کسی شخص کو انکار کی جرات بجز آن صورت که از قرآن وحدیث رو بگرداند یا نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ قرآن و حدیث سے معنی آیت بطور تفسیر بالرائے کند و هر چند در روگردانی کرے اور اس آیت کے معنے تفسیر بالرائے کے بارہ لفظ تو فی اتفاق اہل لغت برہمیں قاعدہ مستمرہ ساتھ کرلے اور اگر چہ لفظ توفی کے معنوں پر اہل لغت کا است که چون در عبارتے فاعل اس لفظ خدا اتفاق ہے اور اس قاعدہ مستمرہ کے مطابق ہیں کہ جب باشد و مفعول به انسانی از انسان با در آن کسی عبارت میں اس لفظ کا فاعل خدا ہو اور مفعول کوئی صورت معنی توفی در میرانیدن محصور خواهد بود و بجز انسان انسانوں میں سے ہو تو اس صورت میں توفی کے در آنجا ہر گز نخواهد معنے مارنے میں محصور ہوں گے اور سوائے مارنے اور وقبض روح معنی دیگر در آنجا هرگز نخواهد قبض روح کے کوئی دیگر معنی اس جگہ نہیں ہوں گے۔ لیکن میرانیدن و بود لیکن ما در اینجا ضرورتے و حاجتے نمی داریم که ۔ ۔ اللہ سوئے کتب لغت عرب رجوع کنیم مارا در میں اس جگہ ہمیں ضرورت نہیں کہ ہم عرب کی لغت کی کتب کی مقام حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم و قول طرف رجوع کریں ہم اس جگہ حدیث آنحضرت صلی ا علیہ وسلم اور ابن عباس کے قول کو صحیح بخاری میں پاتے ابن عباس که آن هر دو در صحیح بخاری موجود اند کافی است و ما خوب می دانیم که هر که از گفته رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعراض کند او منافقه باشد نہ مومنے پس چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لفظ توفیتنی را که در آیت موصوفه است بر خود ہیں ۔ اور یہ دونوں کافی ہیں اور ہم خوب جانتے ہیں جو کوئی قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراض کرتا ہے وہ منافق ہوگا نہ کہ مومن ۔ پس چونکہ رسول اللہ علیہ وسلم نے لفظ توقيتني کو جو مذکورہ آیت میں ہے اس کا اپنے اوپر اطلاق فرمایا ہے اور معنے وفات کے صریح طور بیان فرمائے اطلاق کرده معنی وفات را تصریح کرده است و ہیں اور ابن عباس نے ان معنوں کی وضاحت کو مارنے ابن عباس بصراحت معنی آں میرانیدن نموده