تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 119
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١١٩ سورة المآئدة اند پس تا وقتیکه عیسی نمرده باشد عیسائیاں را چگو کس طرح گمراہ کہا جا سکتا ہے۔علماء اور قوم کی عقل پر نه گمراه توان گفت عجب است از عقل علماء قوم ما تعجب ہے کہ ہماری قوم اس آیت کی طرف توجہ کہ بسوئے ایس آیت تو جہنمی کنند و نصوص صریحہ نہیں کرتے اور نصوص صریحہ کو چھوڑ دیتے ہیں اور اوہام کو را می گذارند و اوہام را مذ ہب خود می گیرند اپنے مذہب کے طور پر اختیار کرتے ہیں۔غرض مردن عیسی علیہ السلام از نصوص قرآنیه الغرض عیسی علیہ السلام کی وفات نصوص قرآنیہ اور وحدیه شه ثابت است و هیچ کس را مجال انکار نیست حدیثوں سے ثابت ہے اور کسی شخص کو انکار کی جرأت بجز آن صورت که از قرآن وحدیث رو بگرداند یا نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ قرآن و حدیث سے معنی آیت بطور تفسیر بالرائے کند۔و ہر چند در روگردانی کرے اور اس آیت کے معنے تفسیر بالرائے کے باره لفظ تو فی اتفاق اہل لغت بر ہمیں قاعدہ مستمرہ ساتھ کرلے اور اگر چہ لفظ توٹی کے معنوں پر اہل لغت کا است کہ چوں در عبارتے فاعل ایں لفظ خدا اتفاق ہے اور اس قاعدہ مستمرہ کے مطابق ہیں کہ جب باشد و مفعول به انسانے از انسان با در آن کسی عبارت میں اس لفظ کا فاعل خدا ہو اور مفعول کوئی صورت معنی توفی در میرانیدن محصور خواهد بود و بجز انسان انسانوں میں سے ہو تو اس صورت میں توفی کے معنے مارنے میں محصور ہوں گے اور سوائے مارنے اور میرانیدن و قبض روح معنی دیگر در آنجا هرگز نخواهد بود لیکن مادر اینجا ضرور تے وحاجتے نمی داریم کہ قبض روح کے کوئی دیگر معنی اس جگہ نہیں ہوں گے۔لیکن سوئے کتب لغت عرب رجوع کنیم۔ما را در میں اس جگہ ہمیں ضرورت نہیں کہ ہم عرب کی لغت کی کتب کی طرف رجوع کریں ہم اس جگہ حدیث آنحضرت صلی اللہ مقام حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وقول ابن عباس که آن بهر دو در صیح بخاری موجود اند علیہ وسلم اور ابن عباس کے قول کو صحیح بخاری میں پاتے کافی است و ما خوب می دانیم که هر که از گفته ہیں۔اور یہ دونوں کافی ہیں اور ہم خوب جانتے ہیں جو کوئی قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراض کرتا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعراض کند او منافقے باشد منافق ہوگا نہ کہ مومن۔پس چونکہ رسول اللہ علیہ وسلم نے لفظ نہ مومنے پس چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لفظ توفيتنى را که در آیت موصوفه است برخود اطلاق کرده معنی وفات را تصریح کرده است و ابن عباس بصراحت معنی آں میرانیدن نموده تولینی کو جو مذکورہ آیت میں ہے اس کا اپنے اوپر اطلاق فرمایا ہے اور معنے وفات کے صریح طور بیان فرمائے ہیں اور ابن عباس نے ان معنوں کی وضاحت کو مارنے