تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 116

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 117 سورة المائدة نَتَوَفَّيَنَّكَ ( يونس : ۴۷) پھر حضرت یوسف کے متعلق بھی قرآن شریف میں یہی توفی کا لفظ وارد ہے اور اس کے معنی بجز موت اور ہر گز نہیں ہیں، دیکھوا تَوَفَّنِي مُسلِماً وَ الْحِقْنِي بِالظَّلِحِينَ ( يوسف : ١٠٢) - یہ حضرت یوسف کی دعا ہے تو کیا اس کے بھی یہی معنی ہیں کہ اے خدا! مجھے زندہ مع جسم عنصری آسمان پر اُٹھالے اور پہلے صلحاء کے ساتھ شامل کر دے جو کہ زندہ آسمان پر موجود ہیں۔سُبُحْنَ اللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابل میں جو ساحر فرعون نے بلائے تھے ان کے ذکر میں توفی کا لفظ مذکور ہے جہاں فرمایا: ربَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَ تَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ (الاعراف :۱۲۷)۔اب ایک مسلمان کی یہ شان نہیں کہ خدا اور اس کے کلام کے مقابلہ میں دم مارے۔قرآن حضرت عیسی کو سراسر مارتا ہے اور ان کے وفات پا جانے کو دلائل اور براہین قطعیہ سے ثابت کرتا ہے اور رسول اکرم نے اس کو معراج کی رات میں وفات یافتہ انبیاء میں دیکھا۔جائے غور ہے کہ اگر حضرت عیسی زندہ مع جسم عصری آسمان ( پر) اُٹھائے جاچکے تھے تو پھر ان کو وفات شدہ انبیاء سے کیا مناسبت، زندہ کو مردہ سے کیا تعلق اور کیسی نسبت ؟ ان کے لیے تو کوئی الگ کوٹھڑی چاہیے تھی۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۷ ۴ مورخه ۱۴ /اگست ۱۹۰۸ صفحه ۳) پہلا جھگڑ وفات مسیح کا ہی ہے۔کھلی کھلی آیات اس کی حمایت میں ہیں : يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إلى ( ال عمران : ۵۲ ) پھر: فَلَمَّا تَوَفَيْتَنِي كُنتَ أنتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ۔یہ عذر بالکل جھوٹا ہے کہ توفی کے معنی کچھ اور ہیں۔ابن عباس رضی اللہ عنہ اور خود بادی کامل صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے معنی امانت کے کر دیئے ہیں۔یہ لوگ بھی جہاں کہیں لفظ تو فی استعمال کرتے ہیں۔تو معنی امانت اور قبض روح سے مراد لیے ہیں قرآن نے بھی ہر ایک جگہ اس لفظ کے یہی معنے بیان کیے ہیں۔(رپورٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ صفحه ۵۸) خود حضرت مسیح کا اپنا اقرار موجود ہے: فَلَمَّا تَوَفَيْتَنِي كُنتَ أنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ اور یہ قیامت کا واقعہ ہے حضرت عیسی علیہ السلام سے سوال ہوگا کہ کیا تو نے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو خدا بناؤ ؟ تو حضرت عیسی علیہ السلام اس کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب تک میں ان میں زندہ تھا میں نے تو نہیں کہا اور میں وہی تعلیم دیتا رہا جو تو نے مجھے دی تھی لیکن جب تو نے مجھے وفات دے دی اس وقت تو ہی ان کا نگہبان تھا۔اب یہ کیسی صاف بات ہے۔اگر یہ عقیدہ صحیح ہوتا کہ حضرت مسیح کو دنیا میں قیامت سے پہلے آنا تھا تو پھر یہ جواب ان کا کس طرح صحیح ہو