تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 116
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١١٦ سورة المائدة نَتَوَفَّيَنَّكَ ( يونس : ۴۷) پھر حضرت یوسف کے متعلق بھی قرآن شریف میں یہی توفی کا لفظ وارد ہے اور اس کے معنی بجز موت اور ہر گز نہیں ہیں ، دیکھو! تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَ الْحِقْنِي بِالصَّلِحِينَ ( يوسف : ۱۰۲) ۔ یہ حضرت یوسف کی دعا ہے تو کیا اس کے بھی یہی معنی ہیں کہ اے خدا! مجھے زندہ مع جسم عنصری آسمان پر اُٹھالے اور پہلے صلحاء کے ساتھ شامل کر دے جو کہ زندہ آسمان پر موجود ہیں ۔ سُبْحَنَ اللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ ۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابل میں جو ساحر فرعون نے بلائے تھے ان کے ذکر میں توفی کا لفظ مذکور ہے جہاں فرمایا : رَبَّنَا افْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَ تَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ ( الاعراف : ۱۲۷) ۔ اب ایک مسلمان کی یہ شان نہیں کہ خدا اور اس کے کلام کے مقابلہ میں دم مارے۔ قرآن حضرت عیسی کو سراسر مارتا ہے اور ان اور کے وفات پا جانے کو دلائل اور براہین قطعیہ سے ثابت کرتا ہے اور رسول اکرم نے اس کو معراج کی رات میں وفات یافتہ انبیاء میں دیکھا۔ جائے غور ہے کہ اگر حضرت عیسی زندہ مع جسم عنصری آسمان ( پر ) اُٹھائے جاچکے تھے تو پھر ان کو وفات شدہ انبیاء سے کیا مناسبت ، زندہ کو مردہ سے کیا تعلق اور کیسی نسبت ؟ ان کے لیے تو کوئی الگ کوٹھڑی چاہیے تھی ۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۷ ۴ مورخہ ۱۴ را گست ۱۹۰۸ صفحه ۳) پہلا جھگڑ اوفات مسیح کا ہی ہے۔ کھلی کھلی آیات اس کی حمایت میں ہیں : يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ الى ( ال عمران : ۵۶) پھر : فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۔ یہ عذر بالکل جھوٹا ہے کہ توفی کے ۔ وسلم معنی کچھ اور ہیں ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ اور خود ہادی کامل صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے معنی امانت کے کر دیئے ہیں۔ یہ لوگ بھی جہاں کہیں لفظ توفی استعمال کرتے ہیں۔ تو معنی امانت اور قبض روح سے مراد لیے ہیں قرآن نے بھی ہر ایک جگہ اس لفظ کے یہی معنے بیان کیے ہیں۔ (رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۵۸) خود حضرت مسیح کا اپنا اقرار موجود ہے : فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ اور یہ قیامت کا واقعہ ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے سوال ہوگا کہ کیا تو نے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو خدا بناؤ ؟ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب تک میں ان میں زندہ تھا میں نے تو نہیں کہا اور میں وہی تعلیم دیتا رہا جو تو نے مجھے دی تھی لیکن جب تو نے مجھے وفات دے دی اس وقت تو ہی ان کا نگہبان تھا۔ اب یہ کیسی صاف بات ہے۔ اگر یہ عقیدہ صحیح ہوتا کہ حضرت مسیح کو دنیا میں قیامت سے پہلے آنا تھا تو پھر یہ جواب ان کا کس طرح صحیح ہو