تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 115
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نزول پر ۔ ۱۱۵ سورة المائدة الحکم جلد ۶ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ را گست ۱۹۰۲ صفحه ۱۱) حضرت عیسیٰ کی حیات ثابت نہیں ، ان کی زندگی ہی میں ایسا فتنہ برپا ہوا کہ کسی اور نبی کی زندگی میں وہ فتنہ نہیں ہوا اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو حضرت عیسیٰ سے مطالبہ کرنا پڑا کہ وَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَ امِّيَ الهَيْنِ یعنی کیا تو نے ہی کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا بنا لو۔ جو جماعت حضرت عیسی نے تیار کی وہ ایسی کمزور اور نا قابل اعتبار تھی کہ خود یہی عیسائی بھی اس کا اقرار کرتے ہیں ۔ انجیل سے ثابت ہے کہ وہ بارہ شاگرد جوان کی خاص قوت قدسی اور تاثیر کا نمونہ تھے ان میں سے ایک نے جس کا نام یہودا اسکر یوطی تھا اس نے تیس روپے پر اپنے آقا ومرشد کو بیچ دیا اور دوسرے نے جو سب سے اول نمبر پر ہے اور شاگر در شید کہلاتا تھا اور جس کے ہاتھ میں بہشت کی کنجیاں تھیں یعنی پطرس اس نے سامنے کھڑے ہو کر تین مرتبہ لعنت کی جب خود حضرت مسیح کی موجودگی میں ان کا اثر اور فیض اس قدر تھا اور اب انیس سو سال گزرنے کے بعد خود اندازہ کر لو کہ کیا باقی رہا ہو گا ۔ اس کے بالمقابل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جماعت طیار کی تھی وہ ایسی صادق اور وفادار جماعت تھی کہ انہوں نے آپ کے لیے جانیں دے دیں ، وطن چھوڑ دیئے ،عزیزوں اور رشتہ داروں کو چھوڑ دیا۔ غرض آپ کے لیے کسی چیز کی پرواہ نہ کی ۔ یہ کیسی زبر دست تا ثیر تھی اس تاخیر کا بھی مخالفوں نے اقرار کیا ہے اور پھر آپ کی تاثیرات کا سلسلہ بند نہیں ہوا بلکہ اب تک وہ چلی جاتی ہیں قرآن شریف کی تعلیم میں وہی اثر وہی برکات اب بھی موجود ہیں۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۶ مورخه ۱۷ رفروری ۱۹۰۶ صفحه ۳) ہم علی وجہ البصیرت یقین رکھتے ہیں کہ توفی کے معنی لغت عرب میں ، نہ کلام خدا اور رسول میں ہرگز مع جسم عنصری اٹھائے جانے کے نہیں ہیں ۔ تمام قرآن شریف کو یکجائی نظر سے دیکھنا چاہیے ، قرآن خدائے علیم وخبیر کی طرف سے کامل علم اور حکمت سے نازل کیا گیا ہے اس میں اختلاف ہرگز نہیں ۔ بعض آیات بعض کی تفسیر واقع ہوئی ہیں اگر ایک متشابہات ہیں تو دوسری محکمات ہیں۔ جب یہی لفظ اور مقامات میں دوسرے انبیاء کے حق میں بھی وارد ہے تو اس کے معنے بجز موت کے اور کچھ نہیں لیے جاتے تو پھر نہ معلوم کہ کیوں حضرت مسیح کو ایسی خصوصیت دی جاتی ہے؟ کیا ابھی تک مسیح کو خصوصیت دینے کا انہوں نے مزہ نہیں چکھا ؟ دیکھو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں صاف یہ لفظ ہیں : إِمَا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ