تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 109 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 109

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۹ سورة المائدة سَاعَةٍ كَغَرِيْبٍ يَمُرُّ مِنْ أَرْضِ بِأَرْضِ قیام صرف گھڑی بھر کا نہیں تھا جو بغیر کسی جگہ قیام کرنے غَيْرَ مُقِيمٍ، وَلَا يُفَتِّشُ بِالْعَزْمِ کے ایک ملک سے دوسرے ملک کو چلا جاتا ہے اور عزم صمیم الصَّمِيمِ، بَلْ لَبِثَ فِيهِمْ إِلَى أَرْبَعِينَ سے کسی امر کی تحقیق و تفتیش نہیں کر سکتا بلکہ آپ ان لوگوں سَنَةً، وَقَتَلَهُمْ وَأَسَرَهُمْ وَأَدْخَلَهُمْ میں چالیس برس تک رہے اور انہیں قتل کیا ، قید کیا اور انہیں جَيْرًا فِي الصِّرَاطِ الْمُسْتَقِيمِ ۔ ثُمَّ يَقُولُ : جبراً اسلام میں داخل کیا۔ پھر بھی وہ کہتے ہیں کہ مجھے کچھ علم لَا أَعْلَمُ مَا صَنَعُوا بَعْدِی فَالْعَجَبُ كُلُّ نہیں کہ میری قوم نے میرے بعد کیا کیا۔ پس ایسے مسیح اور الْعَجَبِ مِنْ هَذَا الْمَسِيحِ وَكَنِيهِ اس کے ایسے جھوٹ سے تعجب پر تعجب ہے! کیا ہم یہ بھی الصَّرِيحِ أَنُؤْمِنُ بِأَنَّهُ لَا يَخَافُ يَوْمَ ایمان رکھیں کہ وہ یوم حساب اور سزا کے کوڑے سے نہیں سے الْحِسَابِ وَلَا سَوْطَ الْعِقَابِ، وَيَكْذِبُ ڈرتے اور ایسا ایسا واضح طور پر جھوٹ بولتے ہیں جس كَذِبًا فَاحِشًا تَعَافُهُ زَمَعُ النَّاسِ اونی لوگ بھی نفرت کریں اور وہ ایسے جھوٹ پر راضی ہیں وَيَرْضَى بِزُورٍ يَأْنَفُ مِنْهُ الْأَرَائِلُ جس سے ایسے رذیل لوگ بھی ناک چڑھا لیں جو گندگیوں میں ملوث ہوتے ہیں؟ کیا عقل کسی نبی کی شان میں جائز الْمُلَوَّثُونَ بِالْأَدْنَاسِ أَيُجَوزُ الْعَقُلُ فِي قرار دیتی ہے کہ وہ آسمان پر چڑھ جانے کے بعد دنیا میں شَأْنِ نَبِي أَنَّهُ رَجَعَ إِلَى الدُّنْيَا بَعْدَ واپس لوٹے اور اپنی قوم نصاری کے شرک اور تثلیث کے عقیدہ کو اپنی آنکھوں سے کھلم کھلا مشاہدہ کرے پھر بھی الصُّعُودِ إِلَى السَّمَاءِ ، وَرَأَى قَوْمَهُ النَّصَارَى وَشِرْكَهُمْ وَتَثْلِيفَهُمْ بِعَيْنَيْهِ اپنے رب کے حضور اس تمام واقعہ سے انکار کر دے اور مِنْ غَيْرِ الْخِفَاءِ ، ثُمَّ أَنْكَرَ أَمَامَ رَبِّهِ هُذِهِ الْقِصَّةَ، وَقَالَ: مَا رَجَعُتُ إِلَى الدُّنْيَا الدَّنِيَّةِ، وَلَا أَعْلَمُ مَا بَالُ قَوْمِي مُنْ رُفِعْتُ إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ فَانْظُرُوا أَي كَذِبِ أَكْبَرُ مِنْ هَذَا الْكَذِبِ کہہ دے کہ میں تو حقیر دنیا میں واپس نہیں گیا اور نہ ہی مجھے یہ معلوم ہے ہے کہ کہ جب جب سے میں دوسرے آسمان کی طرف اُٹھایا گیا میری قوم کا کیا حال ہوا؟ پس دیکھو کہ کون سا جھوٹ اس جھوٹ سے بڑا ہو سکتا ہے جس کے مرتکب مسیح علیہ السلام ہوں گے اور وہ بھی قیامت کے دن اور خدا الَّذِي يَرْتَكِبُهُ الْمَسِيحُ أَمَامَ عَيْنِ اللهِ فِي تعالیٰ کے روبرو اور ایسا کرتے ہوئے وہ خدا تعالیٰ سے بھی يَوْمِ الْحِسَابِ وَالْمَسْأَلَةِ، وَلَا يَخَافُ حَضْرَةَ رَبِّ الْعِزَّةِ فَالْحَاصِلُ أَنَّهُ لَمَّا مَنَعَ نہیں ڈریں گے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ جب قرآن نے