تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xiv of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page xiv

صفحه ۱۳۴ ۱۴۰ ۱۴۳ ۱۴۴ ۱۴۴ ۱۴۶ الد ٧ ۱۴۹ ۱۵۵ ۱۵۹ xiii مضمون غدیر خم پر رسول اللہ کی نصیحت میں تم میں دو نہایت گراں قدر چیزیں چھوڑ رہا ہوں (1) کتاب اللہ (۲) میرے اہل بیت جیسے ایک داعی شر انسان کے لیے مقرر ہے ایسا ہی ایک داعی خیر بھی ہر یک بشر کے لیے موکل ہے جو کبھی اس سے جدا نہیں ہوتا مسئلہ وجود ملائک اور شیاطین ان مسائل میں سے ہے جن کے لیے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے استنباط حقائق میں اس عاجز کو متفر د کیا ہے قرآن شریف میں عذاب کے کئی اقسام بیان کیے ہیں جب تک انسان پورے طور پر حنیف ہو کر اللہ تعالیٰ ہی سے سوال نہ کرے وہ سچا مسلمان اور سچا مومن کہلانے کا مستحق نہیں میرے الہام میں ہے کہ وہ طاعون سے محفوظ رہیں گے جو لَم يَلْبِسُوا إِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ کے مصداق ہیں اجْتَبَينهم وہ باعتبار اپنی فطرتی قوتوں کے دوسروں میں سے چیدہ اور برگزیدہ تھے اس لیے قابل رسالت و نبوت ٹھہرے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک باعتبارا اپنی صفات اور کمالات کے مجموعہ انبیاء تھی آیت لِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ عربی ام الالسنہ ہے سوال کا جواب کہ کیا خدا آسمان پر ہے نمبر شمار ۷۹ ۸۰ M ۸۲ ۸۳ لد ۸۵ ۸۶ ۸۷ ۸۸