تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page xiii
صفحہ ۱۱۵ ۱۲۵ ۱۲۶ ۱۲۷ { xii نمبر شمار ۷۰ اے ۷۲ ۷۳ ۷۴ ۷۵ 24 22 مضمون یہی لفظ تو فی اور مقامات میں دوسرے انبیاء کے حق میں وارد ہے تو اس کے معنے بجز موت کے اور کچھ نہیں لیے جاتے خدا تعالیٰ مفتری علی اللہ کو ہر گز سلامت نہیں چھوڑتا اسی دنیا میں اس کو سزا دیتا ہے اور ہلاک کرتا ہے فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بایتِہ میں ظالم سے سے مراد اس جگہ کا فر ہے منہاج نبوت کے لیے جو معیار ہے اس پر میرے دعوی کو دیکھو آنحضرت بہت جلد فیصلہ کفار کے حق میں چاہتے تھے مگر خدا تعالیٰ اپنے مصالح اور سنن کے لحاظ سے بڑے توقف اور علم سے کام کرتا ہے ہر چند میرا مذ ہب یہی ہے کہ قرآن اپنی تعلیم میں کامل ہے اور کوئی صداقت اس سے باہر نہیں قرآن کریم کے تمام مسائل دینیہ کا استخراج و استنباط کرنا اور اس کی مجملات کی تفاصیل صحیحہ پر حسب منشاء الہی قادر ہونا ہر ایک مجتہد اور مولوی کا کام نہیں مولوی غلام دستگیر قصوری نے میرے صدق و کذب کا فیصلہ آیت فَقطع دست دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا پر چھوڑ ا تھا چونکہ وہ خدا کی نظر میں ظالم تھا اس لیے اس کو مہلت نہ ملی ۷۸ میں نے کئی بار اشتہار دیا ہے کہ کوئی ایسی سچائی پیش کرو جو ہم قرآن شریف سے نہ نکال سکیں ۱۳۲ ۱۳۲ ۱۳۵ ۱۳۷