تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 102

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۲ سورة المائدة اسی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پھر دنیا میں نہیں آئیں گے کیونکہ اگر وہ دنیا میں آنے والے ہوتے تو اس صورت میں یہ جواب حضرت عیسی کا محض جھوٹ ٹھہرتا ہے کہ مجھے عیسائیوں کے بگڑنے کی کچھ خبر نہیں جو شخص دوبارہ دنیا میں آیا اور چالیس برس رہا اور کروڑہا عیسائیوں کو دیکھا جو اس کو خدا جانتے تھے اور صلیب تو ڑا اور تمام عیسائیوں کو مسلمان کیا وہ کیوں کر قیامت کو جناب الہی میں یہ عذر کر سکتا ہے کہ مجھے عیسائیوں کے بگڑنے کی کچھ خبر نہیں۔کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۶ حاشیه ) یا درکھو کہ اب عیسی تو ہر گز نازل نہیں ہوگا کیونکہ جو اقرار اُس نے آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کے رو سے قیامت کے دن کرنا ہے اس میں صفائی سے اُس کا اعتراف پایا جاتا ہے کہ وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آئے گا اور قیامت کو اس کا یہی عذر ہے کہ عیسائیوں کے بگڑنے کی مجھے خبر نہیں اور اگر وہ قیامت کے پہلے دنیا میں آتا تو کیا وہ یہی جواب دیتا کہ مجھے عیسائیوں کے بگڑنے کی کچھ خبر نہیں۔لہذا اس آیت میں اُس نے صاف اقرار کیا ہے کہ میں دوبارہ دنیا میں نہیں گیا اور اگر وہ قیامت سے پہلے دنیا میں آنے والا تھا اور برابر چالیس برس رہنے والا جب تو اُس نے خدا تعالیٰ کے سامنے جھوٹ بولا کہ مجھے عیسائیوں کے حالات کی کچھ خبر نہیں اس کو تو کہنا چاہئے تھا کہ آمدثانی کے وقت میں نے چالیس کروڑ کے قریب دنیا میں عیسائی پایا اور اُن سب کو دیکھا اور مجھے ان کے بگڑنے کی خوب خبر ہے اور میں تو انعام کے لائق ہوں کہ تمام عیسائیوں کو مسلمان کیا اور صلیبیوں کو توڑا، یہ کیسا جھوٹ ہے کہ عیسی کہے گا کہ مجھے خبر نہیں۔غرض اس آیت میں نہایت صفائی سے میچ کا اقرار ہے کہ وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آئے گا اور یہی بیچ ہے کہ مسیح فوت ہو چکا اور سرینگر محلہ خانیار میں اُس کی قبر ہے۔اب خدا خود نازل ہوگا اور ان لوگوں سے آپ لڑے گا جو سچائی سے لڑتے ہیں۔خدا کا لڑ نا قابل اعتراض نہیں کیونکہ وہ نشانوں کے رنگ میں ہے لیکن انسان کا لڑنا قابل اعتراض ہے کیونکہ وہ جبر کے رنگ میں ہے۔کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۷۶) الكَذِبُونَنِي وَلَا تَجِيعُونَنی کیا تم مجھ کو جھٹلاتے ہو حالانکہ نہ تم میرے پاس آتے ہو اور نہ وَلَا تَسْتَلُوْنَ إِنَّ عِيسَى مَاتَ وَلَا مجھ سے پوچھتے ہو کہ عیسی علیہ السلام کس طرح فوت ہو گئے ہیں يحيى بِاحْيَاءِ كُمْ فَلَا تُكَذِّبُوا حالانکہ وہ تمہارے زندہ قرار دینے سے زندہ نہیں ہو سکتے پس الْقُرْآن أَيُّهَا الْمُجْتَرِءُونَ وان اے جرات کرنے والو! تم قرآن مجید کی تکذیب نہ کرو۔اگر مسیح كَانَ نَازِلاً قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ قیامت سے قبل آسمان سے نازل ہونے والے ہوتے جیسا کہ تم