تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 100 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 100

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۰ سورة المائدة رُو سے لَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کے معنے آمدنی ہے۔ بھلا اگر یہ صحیح نہیں ہے تو تو ہی بتلا کہ جبکہ متوفيك کے معنے هميتك ہوئے تو اس قول ابن عباس کے رُو سے لَمَّا تَوَفِّيتَنِی کے کیا معنے ہوئے ؟ کیا ہمیں ضرور نہیں کہ ہم لَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کے معنے ایسی حدیث کی رو سے کریں جیسی کہ حدیث کے رُو سے متوفيك کے معنے کئے گئے ہیں۔ اگر ہم اس بات کے مجاز ہیں کہ ایک ہی محل کی دو آیتوں کی تفسیر میں ایک آیت کی تفسیر کو بطور حجت پیش کر دیں تو اس میں کیا جھوٹ ہوا کہ ہم نے لکھ دیا کہ حدیث کے رُو سے لَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کے معنے لما آمتنی ہیں ۔ جبکہ توفی کے ایک صیغہ میں حدیث کی رو سے یہ مستفاد ہو چکا کہ اس کے معنے وفات دینا ہے تو ؤ ہی استدلال دوسرے صیغہ میں بھی جاری کرنا کیوں حدیثی استدلال سے باہر سمجھا جاتا ہے اور یہ کہنا کہ ہم اُسی قول کو حدیث کہیں گے جس کا اسناد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہو یعنی وہ مرفوع متصل ہو، یہ اور جہالت ہے کیا جو منقطع حدیث ہو اور مرفوع متصل نہ ہو وہ حدیث نہیں کہلاتی ؟ شیعہ مذہب کے امام اور محدث کسی حدیث کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچاتے تو کیا ان اخبار کا نام احادیث نہیں رکھتے اور خود سنیوں کے محدثوں نے بعض اخبار کو موضوع کہہ کر پھر بھی اُن کا نام حدیث رکھا ہے اور حدیث کو کئی قسموں پر منقسم کر کے سب کا نام حدیث ہی رکھ دیا ہے۔ افسوس کہ تم لوگوں کی کہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے کہ اُن باتوں کا نام بھی جھوٹ رکھتے ہو جس طرز کو قرآن شریف نے اختیار کیا ہے اور محض شرارت سے خدا کی پاک کلام پر حملہ کرتے ہو۔ ظاہر ہے کہ اگر مثلاً کوئی یہ کہے کہ میں نے پلاؤ کی ساری رکابی کھالی تو اُس کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ اُس نے جھوٹ بولا ہے اور جھوٹ یہ کہ اُس نے چاول کھائے ہیں رکابی کو توڑ کر تو نہیں کھایا اور جبکہ نصوص حدیثیہ کا استدلال کلیت کا فائدہ بخشتا ہے تو یہ کہنا کہ حدیث کے رُو سے لَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کے معنے لما امتنی ہیں یعنی اس بنا پر کہ متوفيك : مميتك آچکا ہے اس میں کون سا کذب اور دروغ ہے لیکن ایسے جاہل کو کون سمجھائے جو اپنی جہالت کے ساتھ تعصب کی زہر بھی مخلوط رکھتا ہے مگر غنیمت ہے کہ جیسا کہ یہ لوگ تین جھوٹ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے ہیں ایسا ہی تین جھوٹ میری طرف بھی منسوب کئے ۔ ہم اس ابراہیمی مشابہت پر فخر کرتے ہیں لیکن ان لوگوں کے جھوٹ اور افترا کو ان کے منہ پر مارتے ہیں۔ ( تحفہ غزنویہ، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۵۶۸ تا ا۵۷) ایماندار کے لئے صرف ایک آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی اس بات پر دلیل کافی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے کیونکہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کے تیس مقامات میں لفظ توفی کو قبض روح کے موقعہ پر