تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 99
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۹ سورة المآئدة ہے اور نیز اس جگہ یہ یادر ہے کہ خدا تعالیٰ جو اصدق الصادقین ہے اُس نے اپنی کلام میں صدق کو دو قسم قرار دیا ہے؛ ایک صدق باعتبار ظاہر الاقوال، دوسرے صدق باعتبار التاويل والمال۔پہلی قسم صدق کی مثال یہ ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میسٹی مریم کا بیٹا تھا اور ابراہیم کے دو بیٹے تھے اسمعیل و اسحاق کیونکہ ظاہر واقعات بغیر تاویل کے یہی ہیں۔دوسری قسم صدق کی مثال یہ ہے کہ جیسے قرآن شریف میں کفار یا گذشتہ مومنوں کے کلمات کچھ تصرف کر کے بیان فرمائے گئے ہیں اور پھر کہا گیا کہ یہ انہی کے کلمات ہیں اور یا جو قصے توریت کے ذکر کئے گئے ہیں اور اُن میں بہت سا تصرف ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ جس اعجازی طرز اور طریق اور فصیح فقروں اور دلچسپ استعارات میں قرآنی عبارات ہیں اس قسم کے فصیح فقرے کافروں کے منہ سے ہر گز نہیں نکلے تھے اور نہ یہ ترتیب تھی بلکہ یہ ترتیب قصوں کی جو قرآن میں ہے تو ریت میں بھی بالالتزام ہرگز نہیں ہے۔حالانکہ فرمایا ہے إِنَّ هَذَا لَفِي الصُّحُفِ الأولى صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسى ( الاعلى : (۲۰،۱۹) اور اگر یہ کلمات اپنی صورت اور ترتیب اور صیغوں کے رُو سے وہی ہیں جو مثلاً کافروں کے منہ سے نکلے تھے تو اس سے اعجاز قرآنی باطل ہوتا ہے کیونکہ اس صورت میں وہ فصاحت کفار کی ہوئی نہ قرآن کی اور اگر وہی نہیں تو بقول تمہارے کذب لازم آتا ہے کیونکہ اُن لوگوں نے تو اور اور لفظ اور اور ترتیب اور اور صیغے اختیار کئے تھے اور جس طرح مُتَوَفِّيكَ اور توفیتنی دو مختلف صیغے ہیں۔اسی طرح صدہا جگہ ان کے صیغے اور قرآنی صیغے باہم اختلاف رکھتے تھے مثلاً توریت میں ایک قصہ یوسف ہے نکال کر دیکھ لو اور پھر قرآن شریف کی سورہ یوسف سے اس کا مقابلہ کرو تو دیکھو کہ کس قدر صیغوں میں اختلاف اور بیان میں کمی بیشی ہے بلکہ بعض جگہ بظاہر معنوں میں بھی اختلاف ہے۔ایسا ہی قرآن نے بیان کیا ہے کہ ابراہیم کا باپ آذر تھا لیکن اکثر مفسر لکھتے ہیں کہ اس کا باپ کوئی اور تھانہ آزر۔اب اے نادان ! جلد تو بہ کر کہ تو نے پادریوں کی طرح قرآن پر بھی حملہ کر دیا۔صحیح بخاری کی پہلی حدیث ہے کہ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِيَّاتِ ، اسی طرح جب ہم نے دیکھا کہ اس محل میں تمام احادیث کا مقصود مشترک یہ ہے کہ توفینی کے معنے ہیں امتنی تو بصحت نیت اس کا ذکر کر دیا۔اس طرز کے بیان کو جھوٹ سے کیا مناسبت اور جھوٹ کو اس سے کیا نسبت؟ کیا یہ سچ نہیں کہ امام بخاری کا مدعا اس فقرہ متوفيك: حميتك سے یہ ثابت کرنا ہے کہ لما توفیتنی کے معنے ہیں آمینی اور اسی لئے وہ دو مختلف محل کی دو آیتیں ایک جگہ ذکر کر کے اور ایک دوسرے کو بطور نظا ہر قوت دے کر دکھلاتا ہے کہ ابن عباس کا یہ منشاء تھا کہ لما توفيتنى کے معنی ہیں آمَتَنی۔اس لئے ہم نے بھی بطور تاویل اور مال کے یہ کہہ دیا کہ حدیثوں کے