تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 98
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۸ سورة المائدة مطلب یہ ہے کہ عیسائی لوگ حضرت عیسیٰ کی وفات کے بعد بگڑیں گے پھر جب کہ اس آیت سے موت ثابت ہوئی تو آسمان سے نازل کیوں کر ہوں گے؟ آسمان پر مردے تو نہیں رہ سکتے ۔ ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۲۴، ۳۲۵) یقیناً اُس وقت عیسائیوں نے نے مسیح کی الوہیت کے لئے یہ حجت بھی پیش کی ہوگی کہ وہ زندہ آسمان پر موجود عَلَيْهِمْ - ہے لہذا اس کے رد میں خدا تعالیٰ کو خود مسیح کے اقرار کے حوالہ سے یہ کہنا پڑا: فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ انْتَ الرَّقِيبَ ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۸۲ حاشیه ) اس آیت میں حضرت عیسی علیہ السلام صاف اقرار کرتے ہیں کہ عیسائی میرے مرنے کے بعد بگڑے ہیں میری زندگی میں ہرگز نہیں بگڑے ۔ پس اگر حضرت عیسی علیہ السلام اب تک بجسم عنصری زندہ ہیں تو ماننا پڑے گا کہ عیسائی بھی اب تک اپنے سچے دین پر قائم ہیں اور یہ صریح باطل ہے۔ تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴۶۱ حاشیه ) افسوس کہ قرآن شریف میں فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کی آیت پڑھتے ہو اور خوب جانتے ہو کہ سارے قرآن شریف میں ہر جگہ توفی بمعنی قبض روح ہے اور ایسا ہی یقین رکھتے ہو کہ تمام حدیثوں میں بھی توفی بمعنی قبض روح ہے اور پھر افترا کے طور پر کہتے ہو کہ اس جگہ پر توفی بمعنی زندہ اُٹھا لینے کے ہیں ۔ پس اگر تم اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر افتر انہیں کرتے تو بتلاؤ اور پیش کرو کہ کس حدیث میں ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زنده مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے تھے۔ ہائے افسوس! اس قدر جھوٹ اور افترا۔ ( تحفہ غزنویہ، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۵۶۲) میں تو اب بھی ماننے کو طیار ہوں اگر آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کے معنے بجز مارنے اور ہلاک کرنے کے کسی حدیث سے کچھ اور ثابت کر سکو یا کسی آیت یا حدیث سے حضرت عیسی علیہ السلام کا مع جسم عنصری آسمان پر چڑھنا یا مع جسم عنصری آسمان سے اترنا ثابت کر سکو یا اگر اخبار غیبیہ میں جو خدا تعالیٰ سے مجھ پر ظاہر ہوتی ہیں میرا مقابلہ کر سکو یا استجابت دعا میں میرا مقابلہ کر سکو یا تحریر زبان عربی میں میرا مقابلہ کر سکو یا اور آسمانی نشانوں میں جو مجھے عطا ہوئے ہیں میرا مقابلہ کر سکو تو میں جھوٹا ہوں ۔ ہیں سکوتو ( تحفہ غزنویہ ، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۵۴۳) خود بخاری نے اسی مقام میں اس آیت یعنی فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کو بغرض تظاہر آیتین ذکر کر کے جتلا دیا ہے کہ یہی تفسیر فلما توفیتَنِی کی ہے اور وہی استدلال قول ابن عباس کا اس جگہ صحیح ہے جیسا کہ انی متوفیک میں صحیح