تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 95
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۵ سورة المائدة ہوتا ہے اور وہ یہ کہ در حقیقت حواریوں کے زمانہ میں ہی عیسائی مذہب میں شرک کی تخم ریزی ہوگئی تھی۔انجام آنتظم، روحانی خزائن جلد ا ا صفحه ۳۲۱) آیت فَلَمَّا توفيتنى صاف ظاہر کر رہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاگئے ہیں اور صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور نیز حدیث نبوی سے اس بات کا ثبوت دے دیا ہے کہ اس جگہ توفی کے معنے مار دینے کے ہیں اور یہ کہنا بیجا ہے کہ یہ لفظ تو فیتنی جو ماضی کے صیغہ میں آیا ہے دراصل اس جگہ مضارع کے معنے دیتا ہے یعنی ابھی نہیں مرے بلکہ آخری زمانہ میں جا کر مریں گئے۔کیونکہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام جناب الہی میں عرض کرتے ہیں کہ میری امت کے لوگ میری زندگی میں نہیں بگڑے بلکہ میری موت کے بعد بگڑے ہیں۔پس اگر فرض کیا جائے کہ اب تک حضرت عیسی علیہ السلام فوت نہیں ہوئے تو ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ اب تک نصاری بھی نہیں بگڑے۔کیونکہ آیت میں صاف طور پر بتلایا گیا کہ نصاریٰ کا بگڑنا حضرت عیسی علیہ السلام کی موت کے بعد ہے اور اس سے زیادہ اور کوئی سخت بے ایمانی نہیں ہوگی کہ ایسی نص صریح سے انکار کیا جائے۔(کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۲۱۹ حاشیه ) صحابه۔۔۔۔۔بلاشبه بموجب آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی اس بات پر ایمان لاتے تھے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔تبھی تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت اس بات کا احساس کر کے کہ بعض لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میں شک رکھتے ہیں زور سے یہ بیان کیا کہ کوئی بھی نبی زندہ نہیں ہے سب فوت ہو گئے اور یہ آیت پڑھی کہ : قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (آل عمران : ۱۴۵) اور کسی نے ان کے اس بیان پر انکار نہ کیا۔ވ (کتاب البریه، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۲۲۰ ۲۲۱ حاشیه ) خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اپنے بچے نبی کے دامن کو اس تہمت سے پاک کرے اس لئے اس نے قرآن میں یہ ذکر کیا : وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ ( النساء : ۱۵۸) اور یہ فرمایا : يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى (ال عمران : ۵۶ ) تا معلوم ہو کہ یہودی جھوٹے ہیں اور حضرت عیسی علیہ السلام کا اور سچے نبیوں کی طرح رفع الی اللہ ہو گیا اور یہی وجہ ہے جو اس آیت میں یہ لفظ نہیں فرمائے گئے کہ رافعك الى الشماء بلکہ یہ فرمایا گیا کہ رافعک الی تا صریح طور پر ہر ایک کو معلوم ہو کہ یہ رفع روحانی ہے نہ جسمانی کیونکہ خدا کی جناب جس کی طرف راستبازوں کا رفع ہوتا ہے روحانی ہے نہ جسمانی اور خدا کی طرف روح چڑھتے ہیں نہ کہ جسم۔