تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 89 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 89

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۹ سورة المائدة الْعُنْصُرِي لَا شَرِيكَ لَهُ فِي هَذَا الْمَعْنَى بھی مع جسم عنصری زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کے ہیں فَهَذَا ظُلْمُ وَزُورُ وَخِيَانَةٌ شَنِيْعَةٌ، اور یہ معنی عیسی سے مختص ہیں اور دوسرا کوئی ان میں شریک وَتَرْجِيحٌ بِلَا مُرَبَّحَ، وَاسْتِخْفَافُ فِي شَأْنِ نہیں تو یہ سخت ظلم اور جھوٹ اور خیانت اور ترجیح بلا مرح ہے رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَادْعا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان عالی کا استخفاف ہے بِلا دَلِيلٍ وَاضِح وَحُجَةٍ سَاطِعَةٍ وَبُرْهَانِ اور یہ ایک دعوٹی ہے جس پر نہ کوئی روشن دلیل ہے اور نہ کوئی چمکتی ہوئی حجت اور نہ کوئی بین شہادت ہے۔ مُّبِينٍ (حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلدی صفحه ۲۰۹،۲۰۸ حاشیه ) ( ترجمه از مرتب ) نَعَمْ، يُوجَدُ فِي بَعْضِ الْأَحَادِيثِ لَفْظُ ہاں ! بعض احادیث میں عیسیٰ بن مریم کے نزول نُزُولِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، وَلَكِنْ لَّن تَجِدَ فِي کا لفظ پایا جاتا ہے لیکن کسی حدیث میں یہ نہیں پاؤ حَدِيثٍ ذِكْرَ نُزُولِهِ مِنَ السَّمَاءِ ، بَلْ ذِكْرُ گے کہ اس کا نزول آسمان سے ہوگا بلکہ قرآن میں وَفَاتِهِ مَوْجُودٌ فِي الْقُرْآنِ، وَمَا جَازَ أَن اس کی وفات کا ذکر موجود ہے اور جائز نہیں کہ یہ يَكُونَ هَذَا التَّوَفَّى بَعْدَ النُّزُولِ لِأَنَّ الْفِتَنَ وفات نزول کے بعد ہو کیونکہ جن فتنوں کی طرف الَّتِي أُشِيرَ إِلَيْهَا فِي آيَةٍ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي إِنَّمَا آيَت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی میں اشارہ ہے ان کا روئے هَاجَتْ وَظَهَرَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مِنْ زمین پر ظہور اور غلبہ تو ایک لمبے زمانہ سے ہو چکا ہے مُدَّةٍ طَوِيلَةٍ، وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ كَمَا قَالَ، اور جیسا خدا نے فرمایا ایسا ہی پورا ہو چکا ہے اور تو وَتَرَى النَّصَارَى يَنْحِتُونَ لَهُمْ إِلَها دیکھ رہا ہے کہ نصاری نے اپنے لیے ایک خدا اور وابْنَ إِلهِ ابن اللہ گھڑ لیا ہے ۔ ( ترجمہ از مرتب ) (حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلدی صفحه (۲۰۲) وَقَالَ بَعْضُهُمْ أَنَّ ايَةَ : فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ آیت فلما توفيتنی برحق حَقٌّ وَلَا شَكَ أَنَّهَا يَدُلُّ عَلَى وَفَاةِ عِيسَی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ قطعی طور پر حضرت بِدَلَالَةٍ قَطْعِيَّةٍ، وَأَنَّهُ مَاتَ وَإِنَّا نُؤْمِنُ بِهِ عیسی علیہ السلام کی وفات پر دلالت کے دلالت کرتی ہے اور یہ کہ وَكُتُبُ التَّفْسِيرِ مَمْلُوةٌ مِنْ هَذَا الْبَيَانِ آپ وفات پاگئے ہیں اور ہم اس پر ایمان بھی لاتے وَلَكِنَّهُ مَا بَقِيَ مَيْتًا بَلْ بُعِثَ حَيًّا بَعْدَ ہیں اور تفاسیر کی کتب اس بیان سے بھری پڑی ہیں لیکن