تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xii of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page xii

صفحہ ۸۷ ۹۲ ۹۴ ۹۵ ۹۶ ۹۷ 1+1 xi مضمون یہ آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى دلالت کرتی ہے کہ نصاریٰ کا گمراہ ہونا اور ایک بندہ کو خدا بنانا مسیح کی صفات سے مشروط ہے صحیح بخاری میں ابن عباس سے روایت ہے کہ مُتَوَفِّيكَ مميتك آیت فلما توفيتنى میں صریح ظاہر کیا گیا ہے کہ واقعہ وفات حضرت عیسی وقوع میں آگیا ہے یہ کہنا بے جا ہے کہ لفظ تو فیتنی جو ماضی کے صیغہ میں آیا ہے دراصل اس جگہ مضارع کے معنے دیتا ہے وفات حیات کے جھگڑے میں بھی میں حکم ہوں میں امام مالک اور ابن حزم اور معتزلہ کے قول کو مسیح کی وفات کے بارے میں صحیح قرار دیتا ہوں اور دوسرے اہل سنت کو غلطی کا مرتکب سمجھتا ہوں۔یہ حماقت ہے کہ آیت فَلَمَّا تو فیتنی کو آنحضرت کی طرف نسبت کر کے آنجناب کی وفات مراد لی جائے اور اسی آیت کو حضرت عیسی کی طرف نسبت کر کے ان کی حیات مراد لی جائے علم لغت میں یہ مسلم اور مقبول اور متفق علیہ مسئلہ ہے کہ جہاں خدا فائل اور انسان مفعول یہ ہے وہاں بجز مارنے کے اور کوئی معنے توفی کے نہیں آئے آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى سے صریح طور پر دو باتیں ثابت ہوتی ہیں اعتراض کا جواب کہ مسیح کا قول کہ میری وفات کے بعد لوگ بگڑ گئے صحیح نہیں ہو گا بلکہ یہ کہنا چاہیے تھا کہ میرے کشمیر کے سفر کے بعد لوگ بگڑ گئے ہیں کیونکہ وفات تو صلیب کے واقعہ سے ستاسی برس بعد ہوئی نمبر شمار ۶۱ ۶۲ ۶۳ ۶۴ ۶۶ ۶۷ ۶۸ ۶۹