تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page xii
صفحه ۸۷ ۹۲ ۹۴ ۹۵ १५ ۹۷ ۱۰۱ 111 ۱۱۳ xi مضمون یہ آیت فلما توفیتنی دلالت کرتی ہے کہ نصاری کا گمراہ ہونا اور ایک بندہ کو خدا بنانا مسیح کی صفات سے مشروط ہے صحیح بخاری میں ابن عباس سے روایت ہے کہ مُتَوَفِّيكَ مميتك آیت فلما توفیتنی میں صریح ظاہر کیا گیا ہے کہ واقعہ وفات حضرت عیسی وقوع میں آگیا ہے یہ کہنا بے جا ہے کہ لفظ تو فیتنی جو ماضی کے صیغہ میں آیا ہے دراصل اس جگہ مضارع کے معنے دیتا ہے وفات حیات کے جھگڑے میں بھی میں حکم ہوں میں امام مالک اور ابن حزم اور معتزلہ کے قول کو مسیح کی وفات کے بارے میں صحیح قرار دیتا ہوں اور دوسرے اہل سنت کو غلطی کا مرتکب سمجھتا ہوں ۔ یہ حماقت ہے کہ آیت فَلَمَّا تَوَفِّيتَنِی کو آنحضرت کی طرف نسبت کر کے آنجناب کی وفات مراد لی جائے اور اسی آیت کو حضرت عیسیٰ کی طرف نسبت کر کے ان کی حیات مراد لی جائے علم لغت میں یہ مسلم اور مقبول اور متفق علیہ مسئلہ ہے کہ جہاں خدا فائل اور انسان مفعول بہ ہے وہاں بجز مارنے کے اور کوئی معنے توفی کے نہیں آئے آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی سے صریح طور پر دو باتیں ثابت ہوتی ہیں اعتراض کا جواب کہ مسیح کا قول کہ میری وفات کے بعد لوگ بگڑ گئے صحیح نہیں ہوگا بلکہ یہ کہنا چاہیے تھا کہ میرے کشمیر کے سفر کے بعد لوگ بگڑ گئے ہیں کیونکہ وفات تو صلیب کے واقعہ سے ستاسی برس بعد ہوئی ٦١ ۶۲ ۶۳ ۶۴ ۶۵ ۶۶ ۶۷ ۶۸ ۶۹