تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 84
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۴ سورة المائدة فوت نہیں ہوئے اور مدینہ میں ان کا مزار مطہر نہیں تو گواہ رہو کہ میں ایمان لاتا ہوں کہ ایسا ہی حضرت عیسی بھی آسمان کی طرف بجسده العصر کی اٹھائے گئے ہوں گے اور اگر ہمارے سید و مولی و سید الکل ختم المرسلین افضل الاولين و الأخرين اول المحبوبين والمقربین در حقیقت فوت ہو چکے ہیں تو آؤ خدا تعالیٰ سے ڈرو اور فلما توفيتنى کے پیارے لفظوں پر غور کرو جو ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے میں اور اس عبد صالح میں مشترک بیان کئے۔جس کا نام مسیح ابن مریم ہے۔بخاری اس مقام میں سورہ آل عمران کی یہ آیت اني متوفيك کیوں لایا اور کیوں ابن عباس سے روایت کی کہ مُتَوَفِّيكَ: مُميتك ؟ اس کی وجہ بخاری کے صفحہ ۶۶۵ میں شارح بخاری نے لکھی ہے۔هَذِهِ الْآيَةُ مُتَوَفِّيكَ مِنْ سُورَةِ الِ عِمْرَانَ ذَكَرَهُهُنَا لِمُنَاسَبَةِ فَلَمَّا تَوَفَيْتَنِى يعنى يہ آيت إنِّي مُتَوَفِّيكَ سورت آل عمران میں ہے اور بخاری نے جو اس جگہ اس آیت کے ابن عباس سے یہ معنے کئے کہ متوفيك: مُميتك تو اس کا یہ سبب ہے کہ بخاری نے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِنی کے معنی کھولنے کے لئے بوجہ مناسبت یہ فقرہ لکھ دیا ورنہ آل عمران کی آیت کو اس جگہ ذکر کرنے کا کوئی محل نہ تھا۔اب دیکھئے شارح نے بھی اس بات کو قبول کر لیا ہے کہ امام بخاری إنِّي مُتَوَفِّيكَ : مُميتك كے لفظ کو شہادت کے طور پر بہ تقریب تفسیر آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی لایا ہے اور کتاب التفسیر میں جو بخاری نے ان دونوں متفرق آیتوں کو جمع کر کے لکھا ہے تو بجز اس کے اس کا اور کیا مدعا تھا کہ وہ حضرت عیسی کی وفات خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول سے ثابت کر چکا ہے۔اب جب کہ اصح الکتاب کی حدیث مرفوع متصل سے جس کے آپ طالب تھے حضرت عیسی کی وفات ثابت ہوئی اور قرآن کی قطعیۃ الدلالت شہادت اس کے ساتھ متفق ہو گئی اور ابن عباس جیسے صحابی نے بھی موت مسیح کا اظہار کر دیا۔تو اس دوہرے ثبوت کے بعد اور کس ثبوت کی حاجت رہی ؟ الحق مباحثہ دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۱۶ تا ۲۱۸) یا در ہے کہ آیت : فلما توفيتنى میں اسی وعدہ کے پورا ہونے کی طرف اشارہ ہے جو آیت : یعیسی رانی مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى ( ال عمران : ۵۶ ) میں کیا گیا تھا اور توفی کے ان معنوں کے سمجھنے کیلئے جو مراد اور منشاء اللہ جل شانہ کا ہے ضرور ہے کہ ان دونوں آیتوں وعدہ اور تحقق وعدہ کو یکجائی نظر سے دیکھا جائے مگر افسوس کہ ہمارے علماء کو ان تحقیقوں سے کچھ سروکار نہیں۔یہی توفی کا لفظ جو قرآن کریم کے دو مقام میں حضرت مسیح کے بارے میں درج ہے ایسا ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی یہی لفظ