تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 78
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ZA سورة المائدة أَعَدَّ بُةٌ أَحَدًا مِنَ الْعَلَمِينَ معترض صاحب کا اس آیت کو پیش کرنا کہ قَالَ اللهُ إِلَى مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ فَمَنْ يَكْفُرُ بَعْدُ مِنْكُمْ فَإِنِّي إِنِّي W أعَذِّبُهُ عَذَابًا لَا أَعَذِّبُهُ اَحَدًا مِنَ الْعَلَمِيْنَ اور اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ منکھ کا لفظ اس جگہ خصوصیت کے ساتھ حاضرین کے حق میں آیا ہے ایک بے فائدہ بات ہے کیونکہ۔۔۔۔۔۔قرآن کریم کا عام محاورہ جس سے تمام قرآن بھرا پڑا ہے یہی ہے کہ خطاب عام ہوتا ہے اور احکام خطا بیہ تمام امت کے لئے ہوتے ہیں نہ صرف صحابہ کے لئے۔ہاں ! جس جگہ کوئی صریح اور صاف قرینہ تحدید خطاب کا ہو وہ جگہ مستی ہے چنانچہ آیت موصوفہ بالا میں خاص حواریوں کے ایک طائفہ نے نزول مائدہ کی درخواست کی اسی طائفہ کو مخاطب کر کے جواب ملا۔سو یہ قرینہ کافی ہے کہ سوال بھی اسی طائفہ کا تھا اور جواب بھی اسی کو ملا۔(شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۴) وَ اِذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ وَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ الْهَيْنِ مِن دُونِ اللهِ قَالَ سُبْحَنَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقِّ ، إِنْ كُنْتُ قُلْتُه فَقَد عَلِمْتَه تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِى وَلَا اَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ إِنَّكَ أَنْتَ عَلَامُ الغُيُوبِ مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا اَمَرْتَنِي بِه اَنِ اعْبُدُوا اللهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ وَاَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ b جب تو نے مجھے وفات دی تو تو ہی اُن پر نگہبان تھا۔۔۔۔۔۔تمام قرآن شریف میں توفی کے معنے یہ ہیں کہ روح کو قبض کرنا اور جسم کو بیکار چھوڑ دینا۔جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ قُلْ يَتَوَفكُمْ مَلَكُ الْمَوْتِ 9991 الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ ( السجدة : ۱۲) اور پھر فرماتا ہے: وَلكِن اَعْبُدُ اللَّهَ الَّذِي يَتَوَقُكُم (یونس : ۱۰۵) اور پھر فرماتا ہے : حَتَّى يَتَوَفهُنَّ الْمَوْتُ ( النساء : ۱۲ ) اور پھر فرماتا ہے: حَتَّى إِذَا جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمُ (الاعراف : ٣٨) (الجزو نمبر ۸ سورۃ الاعراف) اور پھر فرماتا ہے : تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا ( الانعام : ٢٣) - ایسا ہی قرآن شریف کے تیس مقام میں برابر توئی کے معنے امانت اور قبض روح ہے۔لیکن افسوس کہ بعض