تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 77 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 77

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام LL سورة المائدة نَعْلَمَ أَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُونَ عَلَيْهَا مِنَ الشَّهِدِينَ اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے جس قدر معجزات مسیح کے بیان کیے جاتے ہیں اور جو حواریوں نے دیکھے تھے ان سب کے بعد ان کا یہ درخواست کرنا اس امر کی دلیل ہے کہ ان کے قلوب پہلے مطمئن نہ ہوئے تھے ورنہ یہ الفاظ کہنے کی ان کو کیا ضرورت تھی ؟ وَ تَطْمَينَ قُلُوبُنَا وَنَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنا سیح کی صداقت میں بھی اس سے پہلے کچھ شک ہی سا تھا اور وہ اس جھاڑ پھونک کو معجزہ کی حد تک نہیں سمجھتے تھے۔ان کے مقابلہ میں صحابہ کرام ایسے مطمئن اور قوی الایمان تھے کہ قرآن شریف نے ان کی نسبت رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ( المائدة : ۱۲۰) فرمایا اور یہ بھی بیان کیا کہ ان پر سکینت نازل فرمائی یہ آیت مسیح علیہ السلام کے معجزات کی حقیقت کھولتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت قائم کرتی ہے صحابہ کا کہیں ذکر نہیں کہ انہوں نے کہا کہ ہم اطمینان قلب چاہتے ہیں بلکہ صحابہ کا یہ حال کہ ان پر سکینت نازل ہوئی اور یہود کا یہ حال يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ ابْنَاءَهُم (البقرة : ۱۴۷) ان کی حالت بتائی یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت یہاں تک کھل گئی تھی وہ اپنے بیٹوں کی طرح شناخت کرتے تھے اور نصاریٰ کا یہ حال کہ ان کی آنکھوں سے آپ کو دیکھیں تو آنسو جاری ہو جاتے تھے یہ مراتب مسیح کو کہاں نصیب ! الحکم جلد ۶ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ /اگست ۱۹۰۲ صفحه ۱۰) صحابہ کرام کے نمونے ایسے ہیں کہ کل انبیاء کی نظیر ہیں خدا کو تو عمل ہی پسند ہیں انہوں نے بکریوں کی طرح اپنی جان دی اور ان کی مثال ایسی ہے جیسے نبوت کی ایک ہیکل آدم سے لے کر چلی آتی تھی اور سمجھ نہ آتی تھی مگر صحابہ کرام نے چمکا کر دکھلا دی اور بتلا دیا کہ صدق اور وفا اسے کہتے ہیں۔حضرت عیسی کا تو حال ہی نہ پوچھو۔موسیٰ کو کسی نے فروخت نہ کیا مگر عیسی کو ان کے حواریوں نے ( تمیں ) روپے لے کر فروخت کر دیا۔قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ حواریوں کو عیسی علیہ السلام کی صداقت پر شک تھا جبھی تو مائدہ مانگا اور کہا: وَنَعْلَمَ أَن قَدْ صَدَقْتَنا تا کہ تیرا سچا اور جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نزول مائدہ سے پیشتر ان کی حالت نعلم کی نہ تھی پھر جیسی بے آرامی کی زندگی انہوں نے بسر کی اس کی نظیر کہیں نہیں پائی جاتی صحابہ کرام کا گروہ عجیب گروہ قابل قدر اور قابل پیروی گروہ تھا ان کے دل یقین سے بھر گئے ہوئے تھے جب یقین ہوتا ہے تو آہستہ آہستہ اوّل مال وغیرہ دینے کو جی چاہتا ہے پھر جب بڑھ جاتا ہے تو صاحب یقین خدا کی خاطر جان دینے کو تیار ہو جاتا ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخه ۲۰ فروری ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۵) قَالَ اللهُ اِنّى مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ، فَمَنْ يَكْفُرُ بَعْدُ مِنْكُمْ فَإِنِّي أَعَذِّبُهُ عَذَابًا لا