تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 73

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۳ سورة المائدة b يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمُ انْفُسَكُمْ لَا يَضُرُكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُم إِلَى اللهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَتِتكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ۔یعنی اسے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! پہلے اپنے نفسوں کی اصلاح کرو پھر تم دوسروں کی اصلاح کے قابل بنو گے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ پہلے اپنے آپ کو درست کیا جاوے۔جب تک ہم خود اپنے اعمال سے خدا کو راضی نہیں کرتے دوسروں کو خدا کی رضا کی طرف بلا نا عبث ہے۔جس شخص کے اندر خود روشنی اور نور نہیں وہ دوسروں کو کیا روشنی دے سکتا ہے اور جو آپ ٹھوکریں کھا رہا ہے وہ دوسروں کو کیا سہارا دے سکتا ہے۔جو خود پاک نہیں وہ دوسروں کو کیا پاک کر سکتا ہے۔جو شخص محض زبان سے کام لیتا ہے وہ مذہب کو بچوں کا کھیل بناتا ہے۔۔۔۔۔۔مصلحوں سے بجائے اس کے کہ کوئی فائدہ پہنچے ملک کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے میں کہوں گا کہ جو شخص مصلح بننا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ پہلے خود اپنی اصلاح کرے۔پہلے اپنے اندر روشنی پیدا کرے تو پھر دوسروں کو بھی اس سے روشنی پہنچ سکتی ہے۔سورج کو دیکھ لو کہ پہلے خود روشنی حاصل کر کے روشن ہوا تو پھر دوسروں کو روشنی پہنچانے کے قابل ہوا۔ایسا ہی چاند پہلے خود سورج سے روشنی حاصل کرتا ہے پھر دوسروں کو روشنی پہنچاتا ہے۔ریویو آف ریلیجنز جلد ۳ نمبر ۱۰صفحه ۳۵۱،۳۵۰) يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے اپنے آپ کو درست کرو۔جس شخص کے اندر خود روشنی اور نور نہیں ہے وہ اگر زبان سے کام لے گا تو وہ مذہب کو بچوں کا کھیل بنادے گا اور حقیقت میں ایسے ہی مصلحوں سے ملک کو نقصان پہنچا ہے۔ان کی زبان پر تو منطق اور فلسفہ جاری رہتا ہے مگر اندر خالی ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں نہایت خیر خواہی سے کہہ رہا ہوں خواہ کوئی میری باتوں کو نیک ظنی سے سنے یا بدظنی سے مگر میں کہوں گا کہ جو شخص مصلح بنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ پہلے خود روشن ہو اور اپنی اصلاح کرے۔دیکھو! یہ سورج جو روشن ہے پہلے اس نے خود روشنی حاصل کی ہے۔میں یقینا سمجھتا ہوں کہ ہر ایک قوم کے معلم نے یہی تعلیم دی ہے لیکن اب دوسرے پر لاٹھی مارنا آسان ہے لیکن اپنی قربانی دینا مشکل ہو گیا ہے۔پس جو چاہتا ہے کہ قوم کی اصلاح کرے اور خیر خواہی کرے وہ اس کو اپنی اصلاح سے شروع کرے۔قدیم کے زمانہ کے رشی اور اوتار جنگلوں اور بنوں میں جا کر اپنی اصلاح