تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 67 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 67

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۷ سورة المائدة ہاں ! اگر بائبل کے وہ تمام انبیاء اور صلحاء جن کی نسبت بائبل میں بھی الفاظ موجود ہیں کہ وہ خدا تعالی کے بیٹے تھے یا خدا تھے حقیقی معنوں پر حمل کر لئے جاویں تو بیشک اس صورت میں ہمیں اقرار کرنا پڑے گا کہ خدائے تعالیٰ کی عادت ہے کہ وہ بیٹے بھی بھیجا کرتا ہے بلکہ بیٹے کیا بھی بھی بیٹیاں بھی۔اور بظاہر یہ دلیل تو عمدہ معلوم ہوتی ہے اگر حضرات عیسائی صاحبان اس کو پسند فرماویں اور کوئی اس کو تو ڑ بھی نہیں سکتا کیونکہ حقیقی غیر حقیقی کا تو وہاں کوئی ذکر ہی نہیں بلکہ بعض کو تو پہلوٹا ہی لکھ دیا۔ہاں! اس صورت میں بیٹوں کی میزان بہت بڑھ جائے گی۔غرض کہ اللہ جل شانہ نے سب سے پہلے ابطال الوہیت کے لئے بھی دلیل استقرائی پیش کی ہے۔پھر بعد اس کے ایک اور دلیل پیش کرتا ہے : وَاُمه صدیقه یعنی والدہ حضرت مسیح کی راستباز تھی۔یہ تو ظاہر ہے کہ اگر حضرت مسیح کو اللہ جل شانہ کا حقیقی بیٹا فرض کر لیا جاوے تو پھر یہ ضروری امر ہے کہ وہ دوسروں کی طرح ایسی والدہ کے اپنے تولد میں محتاج نہ ہوں جو باتفاق فریقین انسان تھی کیونکہ یہ بات نہایت ظاہر اور کھلی کھلی ہے کہ قانون قدرت اللہ جل شانہ کا اسی طرح پر واقع ہے کہ ہر ایک جاندار کی اولاد اس کی نوع کے موافق ہوا کرتی ہے مثلاً دیکھو کہ جس قدر جانور ہیں مثلاً انسان اور گھوڑا اور گدھا اور ہر ایک پرندہ وہ اپنی اپنی نوع کے لحاظ سے وجود پذیر ہوتے ہیں یہ تو نہیں ہوتا کہ انسان کسی پرندہ سے پیدا ہو جاوے یا پرند کسی انسان کے پیٹ سے نکلے۔پھر ایک تیسری دلیل یہ پیش کی ہے: كَانَا يَا كُلن الطَّعَامَ یعنی وہ دونوں حضرت مسیح اور آپ کی والدہ صدیقہ کھانا کھایا کرتے تھے۔اب آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ انسان کیوں کھانا کھاتا ہے اور کیوں کھانے کا محتاج ہے۔اس میں اصل بھید یہ ہے کہ ہمیشہ انسان کے بدن میں سالسام تحلیل کا جاری ہے یہاں تک کہ تحقیقات قدیمہ اور جدیدہ سے ثابت ہے کہ چند سال میں پہلا جسم تحلیل پا کر معدوم ہو جاتا ہے اور دوسرا بدن بدل ما يتحلل ہو جاتا ہے اور ہر ایک قسم کی جو غذا کھائی جاتی ہے اس کا بھی روح پر اثر ہوتا ہے کیونکہ یہ امر بھی ثابت شدہ ہے کہ کبھی روح جسم پر اپنا اثر ڈالتی ہے اور کبھی جسم روح پر اپنا اثر ڈالتا ہے جیسے اگر روح کو یکدفعہ کوئی خوشی پہنچتی ہے تو اس خوشی کے آثار یعنی بشاشت اور چمک چہرہ پر بھی نمودار ہوتی ہے اور کبھی جسم کے آثار بننے رونے کے روح پر پڑتے ہیں اب جب کہ یہ حال ہے تو کس قدر مرتبہ خدائی سے یہ بعید ہو گا کہ اپنے اللہ کا جسم بھی ہمیشہ اڑ تار ہے اور تین چار برس کے بعد اور جسم آوے ماسوا اس کے کھانے کا محتاج ہونا بالکل اس مفہوم کے مخالف ہے جو خدا تعالیٰ کی ذات میں مسلم ہے۔اب ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ان حاجتمندیوں سے بری نہیں تھے جو تمام انسان کو لگی ہوئی ہیں۔پھر یہ ایک عمدہ دلیل اس بات