تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 82 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 82

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۲ سورة ال عمران سو عقلمند کے لئے جو متعصب نہ ہو اسی قدر کافی ہے کہ اگر مسیح زندہ ہی اُٹھایا گیا تو پھر مُردوں میں کیوں جا گھسا ؟ ہاں ! اس قدر ذکر کرنا اور بھی ضروری ہے کہ جیسے بعض نادان یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ آیات ذو معنیین ہیں یہ خیال سراسر فاسد ہے، مومن کا یہ کام نہیں کہ تفسیر بالرائے کرے بلکہ قرآن شریف کے بعض مقامات بعض دوسرے مقامات کے لئے خود مفسر اور شارح ہیں۔اگر یہ بات سچ نہیں کہ میسج کے حق میں جو یہ آیتیں ہیں کہ ابي متوفيك اور فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي (المائدة : ۱۱۸) یہ در حقیقت مسیح کی موت پر ہی دلالت کرتی ہیں بلکہ ان کے کوئی اور معنے ہیں تو اس نزاع کا فیصلہ قرآن شریف سے ہی کرانا چاہیئے۔اور اگر قرآن شریف مساوی طور پر کبھی اس لفظ کو موت کے لئے استعمال کرتا ہے اور کبھی ان معنوں کے لئے جو موت سے کچھ علاقہ نہیں رکھتے تو محل متنازعہ فیہ میں مساوی طور پر احتمال رہے گا اور اگر ایک خاص معنے اغلب اور اکثر طور پر مستعملات قرآنی میں سے ہیں تو انہی معنوں کو اس مقام بحث میں ترجیح ہوگی اور اگر قرآن شریف اوّل سے آخر تک اپنے گل مقامات میں ایک ہی معنوں کو استعمال کرتا ہے تو محل محبوث فیہ میں بھی یہی قطعی فیصلہ ہوگا کہ جو معنے تو قی کے سارے قرآن شریف میں لئے گئے ہیں وہی معنے اس جگہ بھی مراد ہیں کیونکہ یہ بالکل غیر مکن اور بعید از قیاس ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنے بلیغ اور فصیح کلام میں ایسے تنازع کی جگہ میں جو اس کے علم میں ایک معرکہ کی جگہ ہے ایسے شاذ اور مجہول الفاظ استعمال کرے جو اس کے تمام کلام میں ہرگز استعمال نہیں ہوئے۔اگر وہ ایسا کرے تو گویا وہ خلق اللہ کو آپ ورطہ شبہات میں ڈالنے کا ارادہ رکھتا ہے۔اور ظاہر ہے کہ اس نے ہرگز ایسا نہیں کیا ہوگا یہ کیوں کر ممکن ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنے قرآن کریم کے تیئیس مقام میں تو ایک لفظ کے ایک ہی معنے مراد لیتا جاوے اور پھر دو مقام میں جو زیادہ تر محتاج صفائی بیان کے تھے کچھ اور کا اور مراد لے کر آپ ہی خلق اللہ کو گمراہی میں ڈال دے۔اب اے ناظرین! آپ پر واضح ہو کہ اس عاجز نے اول سے آخر تک تمام وہ الفاظ جن میں توفّی کا لفظ مختلف صیغوں میں آ گیا ہے قرآن شریف میں غور سے دیکھے تو صاف طور سے کھل گیا کہ قرآن کریم میں علاوہ مکمل متنازعہ فیہ کے یہ لفظ تیئیس جگہ لکھا ہے اور ہر ایک جگہ موت اور قبض روح کے معنوں میں استعمال کیا گیا ہے اور ایک بھی ایسا مقام نہیں جس میں تو فی کا لفظ کسی اور معنے پر استعمال کیا گیا ہو اور وہ یہ ہیں :۔نام سورة نساء الجزو آیت قرآن کریم نمبر ٢ حَتَّى يَتَوَفهُنَّ الْمَوْتُ