تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 81

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام M سورة ال عمران گا۔ لیکن اب تو بجز مجرد رافِعُكَ کے جو مُتَوَفِّيكَ کے بعد ہے کوئی دوسرا لفظ رافعک کا تمام قرآن شریف میں نظر نہیں آتا جو تم محنت کے بعد ہوا گر کسی جگہ ہے تو وہ دکھلانا چاہیے۔ میں بدعوئی کہتا ہوں کہ اس ثبوت کے بعد کہ حضرت عیسیٰ فی الحقیقت فوت ہو گئے تھے یقینی طور پر یہی ماننا پڑے گا کہ جہاں جہاں رَافِعُكَ يَا بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ ( النساء : ۱۵۹) ہے اس سے مراد ان کی روح کا اُٹھایا جانا ہے جو ہر یک مومن کے لئے ضروری ہے۔ ضروری کو چھوڑ کر غیر ضروری کا خیال دل میں لانا سراسر جہل ہے ۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۳۵) قرائن قویہ سے ثابت ہو رہا ہے کہ مسیح جسم کے ساتھ آسمان پر ہر گز نہیں گیا اور نہ آسمان کا لفظ اس آیت میں موجود ہے بلکہ لفظ تو صرف یہ ہے يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى پھر دوسری جگہ ہے بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ (النساء : ۱۵۹) جس کے یہ معنے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے مسیح کو موت دے کر پھر اپنی طرف اٹھا لیا جیسا کہ یہ عام محاورہ ہے کہ نیک بندوں کی نسبت جب وہ مر جاتے ہیں یہی کہا کرتے ہیں کہ فلاں بزرگ کو خدائے تعالیٰ نے اپنی طرف اُٹھا لیا ہے۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۴۷،۲۴۶) خدائے تعالیٰ کی طرف اُٹھائے جانے کے یہی معنے ہیں کہ فوت ہو جانا۔ خدائے تعالیٰ کا یہ کہنا کہ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ ( الفجر : ۲۹) اور یہ کہنا کہ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ اِلَی ایک ہی معنی رکھتا ہے۔ سوا اس کے جس وضاحت اور تفصیل اور توضیح کے ساتھ قرآن شریف میں مسیح کے فوت ہو جانے کا ذکر ہے اس سے بڑھ کر متصور نہیں کیونکہ خداوند عز وجلال نے عام اور خاص دونوں طور پر مسیح کا فوت ہو جانا بیان فرمایا ہے۔ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۶۴، ۲۶۵) یہ بات ظاہر ہے کہ اگر مسیح ابن مریم اس جماعت مرفوعہ سے الگ ہے جو دنیا سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہو کر خدائے تعالیٰ کی طرف اٹھائی گئی ہے تو ان میں جو عالم آخرت میں پہنچ گئے ہرگز شامل نہیں ہو سکتا بلکہ مرنے کے بعد پھر شامل ہوگا اور اگر یہ بات ہو کہ اُن میں جا ملا اور بموجب آیت فَادْخُلِي فِي عبْدِى ( الفجر : ۳۰) ان فوت شدہ بندوں میں داخل ہو گیا تو پھر انہیں میں سے شمار کیا جاوے گا۔ اور معراج کی حدیث سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ مسیح اُن فوت شدہ نبیوں میں جاملا اور یحییٰ نبی کے پاس اس کو مقام ملا۔ اس صورت میں ظاہر ہے کہ معنے اس آیت کے کہ : إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى ہے یہ ہوں گے کہ : إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلى عِبَادِيَ الْمُتَوَفِّيْنَ الْمُقَرَّبِينَ وَ مُلْحِقُكَ بِالصَّلِحِينَ۔