تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 79 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 79

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۹ سورة ال عمران بات ہے کہ موت طبعی سے وفات دی جائے۔یعنی ایسی موت سے جو محض بیماری کی وجہ سے ہو نہ کسی ضربہ سقطہ سے۔اسی وجہ سے مفسرین ؛ صاحب کشاف وغیرہ انِّي مُتَوَفِّيكَ کی یہ تفسیر لکھتے ہیں کہ : إِنِّي مُمِيتُكَ حثف أنفك - ہاں ! یہ اشارہ آیت کے تیسرے فقرہ میں کہ : مُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا ہے اور بھی زیادہ ہے۔غرض فقره مُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا جیسا کہ تیسرے مرتبہ پر بیان کیا گیا ہے ایسا ہی ترتیب طبعی کے لحاظ سے بھی تیسری مرتبہ پر ہے۔کیونکہ جبکہ حضرت عیسی کا موت طبعی کے بعد نبیوں اور مقدسوں کے طور پر خدا تعالی کی طرف رفع ہو گیا۔تو بلاشبہ وہ کفار کے منصوبوں اور الزاموں سے بچائے گئے اور چوتھا فقرہ : وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ جیسا کہ ترتیبا چوتھی جگہ قرآن کریم میں واقع ہے ایسا ہی طبعاً بھی چوتھی جگہ ہے۔کیونکہ حضرت عیسی کے متبعین کا غلبہ ان سب امور کے بعد ہوا ہے۔سو یہ چار فقرے آیت موصوفہ بالا میں ترتیب طبعی سے واقعہ ہیں اور یہی قرآن کریم کی شان بلاغت سے مناسب حال ہے۔کیونکہ امور قابل بیان کا ترتیب طبعی سے بیان کرنا کمال بلاغت میں داخل اور عین حکمت ہے۔اسی وجہ سے ترتیب طبیعی کا التزام تمام قرآن کریم میں پایا جاتا ہے۔سورہ فاتحہ میں ہی دیکھو کہ کیوں کر پہلے رب العالمین کا ذکر کیا۔پھر رحمن پھر رحیم پھر مالک یوم الدین اور کیوں کر فیض کے سلسلہ کو ترتیب وار عام فیض سے لے کر اخص فیض تک پہنچایا۔غرض موافق عام طریق کامل البلاغت قرآن کریم کی آیت موصوفہ بالا میں ہر چہار فقرے ترتیب طبعی سے بیان کئے گئے ہیں لیکن حال کے متعصب ملا جن کو یہودیوں کی طرز پر يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعه ( المائدة : ۱۳) کی عادت ہے اور جو مسیح ابن مریم کی حیات ثابت کرنے کے لئے بے طرح ہاتھ پیر مار رہے ہیں اور کلام الہی کی تحریف و تبدیل پر کمر باندھ لی ہے وہ نہایت تکلف سے خدائے تعالیٰ کی ان چار ترتیب وار فقروں میں سے دو فقروں کی ترتیب طبیعی سے منکر ہو بیٹھے ہیں یعنی کہتے ہیں کہ اگر چہ فقرہ وَ مُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا اور فقره وَ جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ بترتیب طبعی واقع ہیں۔لیکن فقره إلى متوفيك اور فقرہ وَ رَافِعُكَ إلى ترتیب طبیعی پر واقع نہیں ہیں بلکہ دراصل فقره إنِّي مُتَوَفِّيكَ مؤخر اور فقرہ رَافِعُكَ إلى مقدم ہے۔افسوس کہ ان لوگوں نے باوجود اس کے کہ کلام بلاغت نظام حضرت ذات أَحْسَنُ الْمُتَعَلِّمِينَ جَلَّ شانہ کو اپنی اصل وضع اور صورت اور ترتیب سے بدلا کر مسخ کر دیا۔اور چار فقروں میں سے دو فقروں کی ترتیب طبیعی کو مسلم رکھا اور دو فقروں کو دائرہ بلاغت و فصاحت سے خارج سمجھ کر اپنی طرف سے اُن کی اصلاح کی یعنی مقدم کو مؤخر کیا اور مؤخر کو مقدم کیا۔مگر باوجود اس قدر