تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 77
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 24 سورة ال عمران اسباب جوان کی ہلاکت کے لئے جمع ہوئے تھے ان کی زندگی کا موجب ثابت ہوئے۔ اور ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے کفار مکہ کے منصوبوں سے بچا لیا اور اُسی طرح پر یہاں بھی اُس کا وعدہ ہے۔ اگر کوئی یوں کہے کہ وہاں ہی محفوظ کیوں نہ رکھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ سنت اللہ یہ نہیں ہے بلکہ خدا اپنا علم دکھانا چاہتا ہے اس لئے وہاں سے نکال لیتا ہے۔ مکر کی حد اُس وقت تک ہے جبکہ وہ انسانی تدابیر تک ہو مگر جب انسانی منصوبوں کے رنگ سے نکل گیا پھر وہ خارق عادت معجزہ ہوا۔ اگر ذرہ بھی ایمان کسی میں ہو تو وہ ان امور کو صفائی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے، کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کے لئے ہجرت نہ ہو۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۴۴، مورخه ۳۰ نومبر ۱۹۰۱ء صفحه ۳، ۴) مگر اللہ کے یہی معنے ہیں کہ انسان کی بار یک دربار یک تدابیر اور تجاویز پر آخر کا ر خدا کی تجاویز غالب آ جاویں اور انسان کو ناکامی ہو۔ اگر کوئی کتاب اللہ سے اس فلاسفی کو نہیں مانتا تو دنیا میں بھی اس کی نظیر موجود ہے اور اس کے اسرار پائے جاتے ہیں۔ چور کیسی باریک در بار یک تدابیر کے نیچے اپنا کام اور اپنی حفاظت کرتا ہے لیکن گورنمنٹ نے جو تجاویز بار یک دربار یک اُس کی گرفتاری کی رکھی ہیں آخر وہ غالب آ جاتی ہیں تو خدا کیوں نہ غالب آوے؟ البدر جلد ۳ نمبر ۱۸ ، ۱۹ مورخه ۸ تا ۱۶ مئی ۱۹۰۴ ء صفحه (۳) جب انسان مکر کرتا ہے تو اس کے ساتھ خدا بھی مکر کرتا ہے۔ مکر کا مقابلہ مکر کرے جب ہی بات بنتی ہے، نادان مکر کے لفظ پر اعتراض کرتے ہیں۔ یہ زبان کی ناواقفیت کی وجہ سے ہے۔ اس میں کوئی بُری بات نہیں، مگر اس بار یک تدبیر کو کہتے ہیں جو خبیث آدمی کے دفع کے لئے کی جائے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنا نام خَيْرُ الْمُكِرِينَ رکھا۔ ( بدر جلدے نمبرے ، مورخه ۲۰ فروری ۱۹۰۸ ء صفحه (۳) إِذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى وَمُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ ثُمَّ إِلَى مَرْجِعُكُمْ فَاحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنْتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ ) (۵۶) اے عیسی ! میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور پھر عزت کے ساتھ اپنی طرف اٹھانے والا اور کافروں