تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 74
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۴ سورة ال عمران مکر کے مفہوم میں کوئی ایسا نا جائز امر نہیں ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا۔ شریروں کو سزا دینے کے لئے خدا کے جو باریک اور مخفی کام ہیں ان کا نام مکر ہے۔ استفتاء، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۱۱۷) لیکھرام نے نشان مانگنے کے وقت خدا تعالیٰ کا نام خَيْرُ الْمُکرین رکھا۔ اور خدا تعالیٰ کے بارے میں ماکر کا لفظ اس صورت میں بولا جاتا ہے کہ جب وہ بار یک اسباب سے مجرم کو ہلاک یا ذلیل کرتا ہے۔ پس لیکھرام کے مُنہ سے خود وہ الفاظ نکل گئے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنی موت کا نشان مانگتا تھا یعنی ایسا نشان جس کے اسباب بہت باریک ہوں۔ سو خدا کی قدرت ہے کہ اسی طرح اس کی موت ہوئی اور ایسے قاتل کے ہاتھ سے مارا گیا جس کی کارروائی ہر ایک کو نہایت تعجب میں ڈالتی ہے کہ کیوں کر اس نے عین روز روشن میں حملہ کیا اور کیوں کر آباد گھر میں ہاتھ اٹھانے کی اس کو جرات ہوئی اور کیوں کر وہ چھری مار کر صاف نکل گیا اور پھر کیوں کر ہندوؤں کی ایک آباد گلی میں باوجود مقتول کے وارثوں کے شور دہائی کے پکڑا نہ گیا۔ سو جب ہم ان واقعات کو غور سے سوچتے ہیں تو فی الفور طبیعت اس طرف چلی جاتی ہے کہ یہی وہ کام ہے جس کو خَيْرُ الْمُکرِین کی طرف منسوب کرنا چاہیے۔ ہم لکھ چکے ہیں کہ خدا را کا کا نام نام قرآن شریف کی رو سے خَيْرُ الْمُكِرِينَ اس وقت کہا جاتا ہے کہ جب وہ کسی مجرم مستوجب سزا کو بار یک اسباب کے استعمال سے سزا میں گرفتار کرتا ہے۔ یعنی ایسے اسباب اس کی سزا کے، اس کے لئے مہیا کرتا ہے کہ جن اسباب کو مجرم کسی اور ارادہ سے اپنے لئے آپ مہیا کرتا ہے۔ پس وہی اسباب جو اپنی بہتری یا ناموری کے لئے مجرم جمع کرتا ہے وہی اس کی ذلت اور ہلاکت کا موجب ہو جاتے ہیں ۔ قانون قدرت صاف گواہی دیتا ہے کہ خدا کا یہ فعل بھی دنیا میں پایا جاتا ہے کہ وہ بعض اوقات بے حیا اور سخت دل مجرموں کی سزا ان کے ہاتھ سے دلواتا ہے سو وہ لوگ اپنی ذلت اور تباہی کے سامان اپنے ہاتھ سے جمع کر لیتے ہیں ۔ اور ان کی نظر سے وہ امور اس وقت تک مخفی رکھے جاتے ہیں جب تک خدا تعالیٰ کی قضا و قدر نازل ہو جائے۔ پس اس مخفی کارروائی کے لحاظ سے خدا کا نام ماکر ہے۔ دنیا میں ہزاروں نمونے اس کے پائے جاتے ہیں۔ سولیکھرام کے معاملہ میں خدا کا مگر یہ ہے کہ اول اسی کے مونہہ سے کہلوایا کہ میں خَيْرُ الْمُکرین سے اپنی نسبت نشان مانگتا ہوں ۔ سواس درخواست میں اس نے ایسا عذاب مانگا جس کے اسباب مخفی ہوں اور ایسا ہی وقوع میں آیا۔ کیونکہ جس شخص کو شدھ کرنے کے لئے اس نے اتوار کا دن مقرر کیا تھا اور اتوار کے دن