تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 73

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۳ سورة ال عمران کیا وہ ایک ٹکڑ گدا فقیر کی طرح بولتے ہیں؟ نہیں ! من انصاری الی اللہ کہنے کی بھی ایک شان ہوتی ہے وہ دنیا کو رعایت اسباب سکھانا چاہتے ہیں جو دعا کا ایک شعبہ ہے ورنہ اللہ تعالیٰ پر ان کو کامل ایمان اس کے وعدوں پر پورا یقین ہوتا ہے۔وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ کم إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الحيوةِ الدُّنْيَا (المؤمن : ۵۲)۔ایک یقینی اور حتمی وعدہ ہیں۔میں کہتا ہوں کہ بھلا اگر خدا کسی کے دل میں مدد کا خیال نہ ڈالے تو کوئی کیوں کر مدد کر سکتا ہے۔(احکم جلد ۳ نمبر ۱۳ مورخه ۱۲ ۱۷ پریل ۱۸۹۹ صفحه ۷،۶ ) اشاعت دین میں مامور من اللہ دوسروں سے مدد چاہتے ہیں۔مگر کیوں؟ اپنے ادائے فرض کے لیے، تا کہ دلوں میں خدا تعالیٰ کی عظمت پیدا کرے ورنہ یہ تو ایک ایسی بات ہے کہ قریب یہ کفر پہنچ جاتی ہے اگر غیر اللہ کو متولی قرار دیں اور ان نفوس قدسیہ سے ایسا امکان محال مطلق ہے۔الحام جلد ۳ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۲ را پریل ۱۸۹۹ ، صفحہ ۷) تمام کامیابی ہماری معاشرت اور آخرت کے تعاون پر ہی موقوف ہو رہی ہے، کیا کوئی اکیلا انسان کسی کام دین یا دنیا کو انجام دے سکتا ہے؟ ہرگز نہیں! کوئی کام دینی ہو یا د نیوی بغیر معاونت با ہمی کے چل ہی نہیں سکتا۔ہر ایک گروہ کہ جس کا مدعا اور مقصد ایک ہی مثل اعضائے یک دیگر ہے اور ممکن نہیں جو کوئی فعل جو متعلق غرض مشترک اس گروہ کے ہے بغیر معاونت با ہمی ان کی کے بخوبی وخوش اسلوبی ہو سکے۔بالخصوص جس قدر جلیل القدر کام ہیں اور جن کی علت غائی کوئی فائدہ عظیمہ جمہوری ہے وہ تو بجز جمہوری اعانت کے کسی طور پر انجام پذیر ہی نہیں ہو سکتے اور صرف ایک ہی شخص ان کا متحمل ہرگز نہیں ہو سکتا اور نہ کبھی ہوا۔انبیاء علیہم السلام جو تو کل اور تفویض اور تحمل اور مجاہدات افعال خیر میں سب سے بڑھ کر ہیں۔ان کو بھی بہ رعایت اسباب ظاهری مَنْ اَنْصَارِى إِلَى اللهِ کہنا پڑا خدا نے بھی اپنے قانون تشریعی میں یہ تصدیق اپنے قانون قدرت کے تَعاوَنُوا عَلَى الْبِر وَالتَّقْوَى (المائدة : ۳) کا حکم فرمایا۔( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحه ۵۱) وَمَكَرُوا وَ مَكَرَ اللهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَكِرِينَ (۵۵) خَيْرُ الْمَكِرِينَ۔۔۔۔یعنی ایسا مکر کرنے والا جس میں کوئی شر نہیں۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۲) مکر : لطیف اور مخفی تدبیر کو کہتے ہیں جس کا اطلاق خدا پر نا جائز نہیں۔استفتاء، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۱۱۶)