تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 69 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 69

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۶۹ سورة ال عمران اس سے صادر ہوتے ہیں وہ سب خارق عادت ہی ہو جاتے ہیں سو بمقابل اس کے ایسا ہی معاملہ باری تعالیٰ کا بھی اس مبدل تام سے بطور خارق عادت ہی ہوتا ہے۔سرمه چشم آرید، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۶۹،۶۸ حاشیه ) یوں تو عادات از لیہ واہد یہ خدائے کریم جل شانہ سے کوئی چیز با ہر نہیں مگر اس کی عادات جو بنی آدم سے تعلق رکھتی ہیں دو طور کی ہیں؛ ایک عادات عامہ جو روپوش اسباب ہو کر سب پر مؤثر ہوتی ہیں، دوسری عادات خاصہ جو بتوسط اسباب اور بلا توسط اسباب خاص ان لوگوں سے تعلق رکھتی ہیں جو اس کی محبت اور رضا میں کھوئی جاتی ہیں یعنے جب انسان بکلی خدائے تعالیٰ کی طرف انقطاع کر کے اپنی عادات بشریہ کو استرضاء حق کے لئے تبدیل کر دیتا ہے تو خدائے تعالیٰ اس کی اس حالت مبدلہ کے موافق اس کے ساتھ ایک خاص معاملہ کرتا ہے جو دوسروں سے نہیں کرتا یہ خاص معاملہ نسبتی طور پر گویا خارق عادت ہے جس کی حقیقت انہیں پر کھلتی ہے جو عنایت الہی سے اس طرف کھینچے جاتے ہیں۔سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۰۵) نبی اگر ایک سوٹا پھینک دے اور کہے کہ میرے سوا کوئی اس کو اُٹھا نہ سکے گا تو یہ بھی ایک معجزہ ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۱ صفحه ۱۰) معجزات وہی ہوتے ہیں جس کی نظیر لانے پر دوسرے عاجز ہوں۔انسان کا یہ کام نہیں کہ وہ اُن کی حد بند کرے کہ ایسا ہونا چاہئے یا ویسا ہونا چاہئے۔اس میں ضرور ہے کہ بعض پہلو اختفا کے ہوں کیونکہ نشانات کے ظاہر کرنے سے اللہ تعالیٰ کی غرض یہ ہوتی ہے کہ ایمان بڑھے اور اس میں ایک عرفانی رنگ پیدا ہو۔جس میں ذوق ملا ہوا ہو۔الحکم جلدے نمبر ۱۲،مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۳) معجزہ سے مراد فرقان ہے جو حق اور باطل میں تمیز کر کے دکھا دے اور خدا کی ہستی پر شاہد ناطق ہو۔البدر جلد ۴ نمبرے مورخہ ۵ مارچ ۱۹۰۵ صفحه ۲) انبیاء علیہم السلام کو جو معجزات دیئے جاتے ہیں، اس کی وجہ یہی ہے کہ انسانی تجارب شناخت نہیں کر سکتے اور جب انسان ان خارق عادت امور کو دیکھتا ہے تو ایک بار تو یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ خدائے تعالی کی طرف سے ہے۔صحیح تاریخ ایک عمدہ معلم ہے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ ہر نبی کے معجزات اس رنگ کے ہوتے ہیں جس کا رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ ء صفحہ ۹۲)