تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 69
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۹ سورة ال عمران اس سے صادر ہوتے ہیں وہ سب خارق عادت ہی ہو جاتے ہیں سو بمقابل اس کے ایسا ہی معاملہ باری تعالیٰ کا بھی اس مبدل تام سے بطور خارق عادت ہی ہوتا ہے۔ سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۶۸ ، ۱۹ حاشیه ) خاصہ جو بتوسط عادات خاصه یوں تو عادات از لیہ وابد یہ خدائے کریم جل شانہ سے کوئی چیز باہر نہیں مگر اس کی عادات جو بنی آدم سے تعلق رکھتی ہیں دوطور کی ہیں ؟ ایک عادات عامہ جو روپوش اسباب ہو کر سب پر مؤثر ہوتی ہیں، دوسری سط اسباب اور بلا توسط اسباب خاص ان لوگوں سے تعلق رکھتی ہیں جو اس کی محبت اور رضا میں کھوئی جاتی ہیں یعنے جب انسان بکلی خدائے تعالیٰ کی طرف انقطاع کر کے اپنی عادات بشریہ کو استرضاء حق کے لئے تبدیل کر دیتا ہے تو خدائے تعالیٰ اس کی اس حالت مبدلہ کے موافق اس کے ساتھ ایک خاص معاملہ کرتا ہے جو دوسروں سے نہیں کرتا یہ خاص معاملہ نسبتی طور پر گو یا خارق عادت ہے جس کی حقیقت انہیں پر کھلتی ہے جو عنایت الہی سے اس طرف کھینچے جاتے ہیں۔ سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۰۵) نبی اگر ایک سونٹا پھینک دے اور کہے کہ میرے سوا کوئی اس کو اُٹھا نہ سکے گا تو یہ بھی ایک معجزہ ہے۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۱ ء صفحه ۱۰) معجزات وہی ہوتے ہیں جس کی نظیر لانے پر دوسرے عاجز ہوں ۔ انسان کا یہ کام نہیں کہ وہ ان کی حد بند کرے کہ ایسا ہونا چاہئے یا ویسا ہونا چاہئے ۔ اس میں ضرور ہے کہ بعض پہلو اخفا کے ہوں کیونکہ نشانات کے ظاہر کرنے سے اللہ تعالیٰ کی غرض یہ ہوتی ہے کہ ایمان بڑھے اور اس میں ایک عرفانی رنگ پیدا ہو۔ جس میں ذوق ملا ہوا ہو ۔ الحکم جلدے نمبر ۱۲، مورخہ ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۳) معجزہ سے مراد فرقان ہے جو حق اور باطل میں تمیز کر کے دکھا دے اور خدا کی ہستی پر شاہد ناطق ہو۔ البدر جلد ۴ نمبرے ، مورخہ ۵ مارچ ۱۹۰۵ ء صفحہ (۲) انبیاء علیہم السلام کو جو معجزات دیئے جاتے ہیں ، اس کی وجہ یہی ہے کہ انسانی تجارب شناخت نہیں کر سکتے اور جب انسان ان خارق عادت امور کو دیکھتا ہے تو ایک بار تو یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ ء صفحہ ۹۲) صحیح تاریخ ایک عمدہ معلم ہے۔ اس سے پتہ لگتا ہے کہ ہر نبی کے معجزات اس رنگ کے ہوتے ہیں جس کا