تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 67
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۷ سورة ال عمران۔بِإِذْنِ اللهِ وَ إِنَّ مَثَلَ طَيْرٍ عیسی اور عیسیٰ علیہ السلام کے پرندوں کی مثال حضرت موسیٰ علیہ السلام كَمَقَلٍ عَصَا مُوسَى ظَهَرَتْ كَحَيَّةٍ تَسْعی کے عصا کی مثال ہے جو بھاگتے ہوئے سانپ کی شکل میں وَلكِن مَا تَرَكَتْ لِلدَّوَامِ سِيرَتَهُ ظاہر ہوا لیکن اس نے ہمیشہ کے لئے اپنی پہلی سیرت کو الأولى۔وَكَذَلِكَ قَالَ الْمُحَقِّقُونَ إِنَّ چھوڑ نہیں دیا تھا اور اسی طرح محققین نے کہا ہے کہ طيرَ عِيسَى كَانَ يَطِيرُ أَمَامَ أَعْيُنٍ حضرت عیسی علیہ السلام کے پرندے جب تک لوگوں کی النَّاسِ وَإِذَا غَابَ فَكَانَ يَسْقُط وَيَرْجِعُ آنکھوں کے سامنے رہتے تھے اڑتے تھے اور جونہی وہ إلى سِيرَتِهِ الْأُولى۔فَأَيْنَ حَصَلَ لَهُ نظروں سے غائب ہوتے نیچے گر جاتے اور اپنی پہلی حالت الْحَيَاةُ الْحَقِيقِيُّ وَكَذلِكَ كَانَ حَقِيقَةُ کی طرف لوٹ آتے۔پس ان پرندوں کو حقیقی زندگی کہاں الْإِحْيَاء أَغْنِى أَنَّهُ مَا رَةً إِلى مَيْتٍ قَط حاصل ہوئی تھی یہی حقیقت ان کے مردے زندہ کرنے کی لَوَازِمَ الْحَيَاةِ كُلِّهَا، بَلْ كَانَ يُرَى جَلْوَةٌ ہے یعنی انہوں نے کسی مردہ میں کبھی تمام لوازمات زندگی مِنْ حَيَاةِ الْمَيِّتِ بِتَأْثِيرِ رُوحِهِ دوبارہ نہیں لوٹائے۔بلکہ ان کی پاکیزہ روح کی تاثیر سے مردہ الطيب، و كان الميتُ حَيًّا مَّا دَامَ میں زندگی کا ایک جلوہ دکھلایا جاتا تھا اور وہ مردہ اسی وقت تک عِيسَى قَائِمًا عَلَيْهِ أَوْ قَاعِدًا، فَإِذَا زندہ رہتا تھا جب تک حضرت عیسی علیہ السلام اس کے پاس ذَهَبَ فَعَادَ الْمَيْتُ إلى حَالِهِ الْأَوَّلِ کھڑے یا بیٹھے رہتے۔جب آپ وہاں سے چلے جاتے تو وَمَاتَ فَكَانَ هَذَا إِحْيَاءًا إنجازيًا لا مردہ اپنی پہلی حالت پر لوٹ آتا اور مرجاتا پس یہ زندہ کرنا احیاء اعجازی تھا حقیقی نہ تھا۔( ترجمہ از مرتب ) حقيقيًّا۔(حمامة البشری ، روحانی خزائن جلد۷ صفحه ۳۱۶،۳۱۵) كَانَ الْإِحْيَاء بِالنَّفْخِ كَالْإِمَا تَةِ بِالنَّظَرِ۔پھونک سے زندہ کرنا ایسا تھا جیسے نظر سے مارنا۔نور الحق حصہ اول، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۱۱ حاشیه ) اگر مسیح واقعی مردوں کو زندہ کرتے تھے تو کیوں پھونک مار کر ایلیا کو زندہ نہ کر دیا تا یہود ابتلا سے بیچ جاتے اور خود مسیح کو بھی ان تکالیف اور مشکلات کا سامنانہ ہوتا جو ایلیا کی تاویل سے پیش آئیں۔الحکم جلد ۶ نمبر ۳ ، مورخه ۲۴ /جنوری ۱۹۰۲ء صفحه ۳) رہا حضرت عیسی کا احیاء موٹی! اس میں روحانی احیاء موٹی کے تو ہم بھی قائل ہیں اور ہم مانتے ہیں کہ