تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 62
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۲ سورة ال عمران الْمَسِيحِ وَتَأْثِيرِ رُوْحِهِ مِنْ غَيْرِ مُقَارَنَتِهِ کی تاثیر سے تھا اور اس کے ساتھ کوئی دعا نہیں تھی سو ایسے سمجھنے دُعَاءُ، فَهَلَكُوا وَأَهْلَكُوا كَثِيرًا تین والے ہلاک ہوئے اور بہتوں کو جاہلوں میں سے ہلاک کیا۔الْجَاهِلِينَ وَالْقُرْآن لا تجعل شريكا في اور قرآن تو کسی کو خدا کی خالقیت میں شریک نہیں کرتا اگر چہ خَلْقِ اللهِ أَحَدًا وَ لَوْ فِي ذُبَابِ أَوْ بَعُوضَةٍ ایک بھی بنانے یا ایک مچھر بنانے میں شراکت ہو بلکہ وہ کہتا بَلْ يَقُولُ إِنَّهُ وَاحِدٌ ذَانَا وصِفاتا ہے کہ خدا ذاتاً وصفاتاً واحد لاشریک ہے سو تم قرآن کو ایسا فَاقْرَءُوا الْقُرْآنَ كَالْمُتَدَبِرِينَ پڑھو جیسا کہ تدبر کرنے والے پڑھتے ہیں۔فَالْأَمْرُ الَّذِي ثَبَتَ عَقَلًا وَنَقَلًا سوجو امر عقلاً ونقل واستدلالا ثابت ہو گیا۔اس کا کوئی واستدلالا لا يُنْكِرُهُ أَحَدٌ إِلَّا الَّذي ما انکار نہیں کر سکتا بجز ایسے شخص کے جس کے سر میں انسانی يقى في رأسه مِرَّةٌ إِنْسَانِيَةٌ وَلَحَق دانشمندی کا مادہ نہیں رہا اور زیاں کاروں اور تحت الثریٰ بِالْأَخْسَرِينَ السَّافِلِينَ۔وَلَا يَقُولُ أَحَدٌ جانے والوں کے ساتھ جا ملا۔اور ایسی باتیں کوئی منہ پر كَيفل هذِهِ الْكَلِمَاتِ إِلَّا الَّذِي نَسِتی نہیں لائے گا مگر وہی جو توحید کی راہ کو بھول گیا اور پہلی طَرِيقَ التَّوْحِيدِ وَمَالَ إِلَى الْجَاهِلِيَّةِ جاہلیت کی طرف مائل ہو گیا اور اس کی نظر ان عقیدوں الْأَوْلى، وَمَا بَلَغَ نَظَرُهُ إلى نتائجها کے لازمی نتیجوں اور چھپے ہوئے فسادوں تک نہیں پہنچ سکی الطُّرُورِيَّةِ وَمَفَاسِيهَا الْمَغْفِيَّةِ أَو یا وہ شخص ایسے کلمات کہے گا جو جہالت کی باتوں پر اڑ الَّذِي رَسَا عَلَى جَهْلِهِ عَمَدًا وَغَرِقَ في بیٹھا اور تقلید کے دریا میں غرق ہو گیا۔یہاں تک کہ لجَةِ التَّقْلِيْهِ غَرْقًا حَتَّی فَقَد أَثَرَ حُرِّيَّةِ انسانی آزادی کے نام و نشان کو کھو بیٹھا اور ایسے جال میں الْإِنْسَانِيَّةِ، وَسَقَط في شَبَكَةٍ لَّا تَخَلَّص پھنس گیا جس میں سے نجات نہیں اور ابلیس لعین کے مِنْهَا، وتابع أثر إبْلِيسَ اللَّعِيْنِ وَالَّذِى نشان قدم کا پیرو ہو گیا اور وہ شخص جو قرآن پر ایمان لایا امَن بِالْقُرْآنِ وَأَلْقَى نَفْسَه تحت هدایا تب اور اس کی ہدایتوں کے نیچے اپنے تئیں ڈال دیا سو وہ ایسے عقائد فَلَن تَرْطى مِثْلِ هَذِهِ الْعَقَايْدِ، بَلْ لا پر بھی راضی نہیں ہوتا بلکہ وہ ایسی باتوں کو جو صریح قرآن کے يَسُوعُ لَه قَوْلٌ تُخالِفُ الْقُرْآنَ بِالْبَدَاهَةِ مخالف اور اس کی محکم آیتوں کے کھلے کھلے معارض ہیں نا جائز وَ يُعَارِضُ بَيِّنَاتِهِ وَمُحْكَمَاتِهِ صَرِيحًا سمجھے گا اور اس سے بڑھ کر اور کون سا گناہ ہوگا کہ ایک شخص وَأَى ذَنْبٍ أَكْبَرُ مِن ذَلِكَ أَنَّ أَحَدًا يُؤْمِن قرآن پر ایمان لا کر پھر رجوع کرے اور اس کی بعض بدایوں