تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 60
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۰ سورة ال عمران نہیں تھے اور قرآن شریف میں بھی کسی جگہ یہ ذکر نہیں کہ مسیح بیماروں کے چنگا کرنے یا پرندوں کے بنانے کے وقت دعا کرتا تھا بلکہ وہ اپنی روح کے ذریعہ سے جس کو روح القدس کے فیضان سے برکت بخشی گئی تھی ایسے ایسے کام اقتداری طور پر دکھاتا تھا چنانچہ جس نے کبھی اپنی عمر میں غور سے انجیل پڑھی ہوگی وہ ہمارے اس بیان کی یہ یقین تمام تصدیق کرے گا اور قرآن شریف کی آیات بھی بآواز بلند یہی پکار رہی ہیں کہ مسیح کے ایسے عجائب کاموں میں اس کو طاقت بخشی گئی تھی اور خدائے تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ وہ ایک فطرتی طاقت تھی جو ہر یک فرد بشر کی فطرت میں موقع ہے، مسیج سے اس کی کچھ خصوصیت نہیں۔چنانچہ اس بات کا تجزیہ اسی زمانہ میں ہو رہا ہے۔مسیح کے منجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق اور بے قدر تھے جو مسیح کی ولادت سے بھی پہلے مظہر عجائبات تھا جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم ، مفلوج، مبروص وغیرہ ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہو جاتے تھے لیکن بعد کے زمانوں میں جو لوگوں نے اس قسم کے خوارق دکھلائے اُس وقت تو کوئی تالاب بھی موجود نہیں تھا۔غرض یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ میسج مٹی کے پرندے بنا کر اور اُن میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔نہیں ! بلکہ صرف عمل القرب تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا۔یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی بہر حال یہ معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا اور وہ مٹی در حقیقت ایک مٹی ہی رہتی تھی۔جیسے سامری کا گوسالہ۔فَتَدَبَّر ! فَإِنَّهُ نُكْتَةً جَلِيْلَةٌ مَّا يُلَقَهَا إِلَّا ذُوْحَةٍ عَظِيمٍ - (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۵۱ تا ۶۳ ۲ حاشیه ) وَقَالُوا إِنَّهُ كَانَ خَالِقَ الطُّيُورِ كَخَلْقِ اللهِ (لوگ کہتے ہیں کہ مسیح) خدا تعالی کی طرح وہ تَعَالَى، وَجَعَلَهُ اللهُ شَرِيكَهُ بِاذْنِهِ وَالطُّيُورُ پرندوں کا بھی خالق تھا اور خدا تعالیٰ نے اپنے اذن التى تُوجَدُ في هَذَا الْعَالَمِ تَنْحَصِرُ فی سے اس کو اپنا شریک بنایا۔سو وہ سب پرندے جو دنیا الْقِسْمَيْنِ خَلْقُ اللهِ وَخَلْقُ الْمَسِيحِ فَانْظُرْ میں پائے جاتے ہیں دو قسم کے ہیں؛ کچھ خدا کی كَيْفَ جَعَلُوا ابْنَ مَرْيَمَ مِنَ الْخَالِقِينَ۔پیدائش اور کچھ مسیح کی۔سود دیکھو کیوں کر ابن مریم کو خالق وَيُشِيعُونَ فِي النَّاسِ هَذِهِ الْعَقَائِدَ وَلَا بنا دیا۔اور لوگوں میں یہ عقائد شائع کرتے ہیں اور نہیں يَدُرُونَ مَا فِيهَا مِنَ الْبَلايَا وَالْمَنَايَا، جانتے کہ ان عقیدوں میں کیا کیا بلائیں اور موتیں ہیں