تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 59
۵۹ تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام سورة ال عمران گو اس کے حکم اور اذن سے ہی سہی اور نیز ایسے خالقوں کے سامنے اور فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمُ (الرعد : ۱۷) کی مجبوری سے خالق حقیقی کی معرفت مشتبہ ہو جائے گی۔غرض یہ اعجاز کی صورت نہیں یہ تو خدائی کا حصہ دار بنانا ہے۔بعض دانشمند شرک سے بچنے کے لئے یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ حضرت مسیح جو پرندے بناتے تھے وہ بہت دیر تک جیتے نہیں تھے ان کی عمر چھوٹی ہوتی تھی تھوڑی مسافت تک پرواز کر کے پھر گر کر مر جاتے تھے۔لیکن یہ عذر بالکل فضول ہے اور صرف اس حالت میں ماننے کے لائق ہے کہ جب یہ اعتقاد رکھا جائے کہ ان پرندوں میں واقعی اور حقیقی حیات پیدا نہیں ہوتی تھی بلکہ صرف ظلی اور مجازی اور جھوٹی حیات جو عمل الشّرب کے ذریعہ سے پیدا ہو سکتی ہے ایک جھوٹی جھلک کی طرح ان میں نمودار ہو جاتی تھی۔پس اگر اتنی ہی بات ہے تو ہم اس کو پہلے سے تسلیم کر چکے ہیں ہمارے نزدیک ممکن ہے کہ عمل الشرب کے ذریعہ سے پھونک کی ہوا میں وہ قوت پیدا ہو جائے جو اس دُخان میں پیدا ہوتی ہے جس کی تحریک سے غبارہ اوپر کو چڑھتا ہے۔صانع فطرت نے اس مخلوقات میں بہت کچھ خواص مخفی رکھے ہوئے ہیں۔ایک شریک صفات باری ہونا ممکن نہیں اور کونسی صنعت ہے جو غیر ممکن ہے؟ اور اگر یہ اعتقا در کھا جاوے کہ اُن پرندوں میں واقعی اور حقیقی حیات پیدا ہو جاتی تھی اور سچ سچ اُن میں ہڈیاں گوشت پوست خون وغیرہ اعضا بن کر جان پڑ جاتی تھی تو اس صورت میں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اُن میں جاندار ہونے کے تمام لوازم پیدا ہو جاتے ہوں گے اور وہ کھانے کے بھی لائق ہوتے ہوں گے اور اُن کی نسل بھی آج تک کروڑ ہا پرندے زمین پر موجود ہوں گے اور کسی بیماری سے یا شکاری کے ہاتھ سے مرتے ہوں گے تو ایسا اعتقاد بلاشبہ شرک ہے۔بہت لوگ اس وسوسہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ اگر کسی نبی کے دعا کرنے سے کوئی مردہ زندہ ہو جائے یا کوئی جماد جاندار بن جائے تو اس میں کون سا شرک ہے؟ ایسے لوگوں کو جانا چاہیئے کہ اس جگہ دعا کا کچھ ذکر نہیں اور دعا کا قبول کرنا یا نہ کرنا الہ جل شانہ کے اختیار میں ہوتا ہے اور دعا پر جو فعل مترتب ہوتا ہے وہ فعل الہی ہوتا ہے نبی کا اس میں کچھ دخل نہیں ہوتا اور نبی خواہ دعا کرنے کے بعد فوت ہو جائے نبی کے موجود ہونے یا نہ ہونے کی اس میں کچھ حاجت نہیں ہوتی۔غرض نبی کی طرف سے صرف دعا ہوتی ہے جو کبھی قبول اور کبھی رو بھی ہو جاتی ہے لیکن اس جگہ وہ صورت نہیں۔انا جیل اربعہ کے دیکھنے سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح جو جو کام اپنی قوم کو دکھلاتا تھا وہ دعا کے ذریعہ سے ہرگز