تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 58 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 58

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۵۸ سورة ال عمران فرماتا ہے کہ کوئی شخص موت اور حیات اور ضرر اور نفع کا مالک نہیں ہوسکتا۔اس جگہ ظاہر ہے کہ اگر کسی مخلوق کو موت اور حیات کا مالک بنادینا اور اپنی صفات میں شریک کر دینا اس کی عادت میں داخل ہوتا تو وہ بطور استثناء ایسے لوگوں کو ضرور باہر رکھ لیتا اور ایسی اعلیٰ توحید کی ہمیں ہرگز تعلیم نہ دیتا۔اگر یہ وسواس دل میں گزرے کہ پھر اللہ جل شانہ نے مسیح ابن مریم کی نسبت اس قصہ میں جہاں پرندہ بنانے کا ذکر ہے متخلق کا لفظ کیوں استعمال کیا جس کے بظاہر یہ معنے ہیں کہ تو پیدا کرتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ حضرت عیسیٰ کو خالق قرار دینا بطور استعارہ ہے جیسا کہ اس دوسری آیت میں فرمایا ہے: فَتَبَرَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَلِقِينَ (المؤمنون : ۱۵) بلاشبہ حقیقی اور سیا خالق خدائے تعالیٰ ہے اور جو لوگ مٹی یالکڑی کے کھلونے بناتے ہیں وہ بھی خالق ہیں مگر جھوٹے خالق ، جن کے فعل کی اصلیت کچھ بھی نہیں۔اور اگر یہ کہا جائے کہ کیوں بطور معجزہ جائز نہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام اذن اور ارادہ الہی سے حقیقت میں پرندے بنا لیتے ہوں اور وہ پرندے ان کی اعجازی پھونک سے پرواز کر جاتے ہوں تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنے اذن اور ارادہ سے کسی شخص کو موت اور حیات اور ضرر اور نفع کا مالک نہیں بناتا۔نبی لوگ دعا اور تضرع سے معجزہ مانگتے ہیں، معجزہ نمائی کی ایسی قدرت نہیں رکھتے جیسا کہ انسان کو ہاتھ پیر ہلانے کی قدرت ہوتی ہے۔غرض معجزہ کی حقیقت اور مرتبہ سے یہ امر بالاتر اور ان صفات خاصہ خدائے تعالی میں سے ہے جو کسی حالت میں بشر کومل نہیں سکتیں۔معجزہ کی حقیقت یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ ایک امر خارق عادت یا ایک امر خیال اور گمان سے باہر اور امید سے بڑھ کر ایک اپنے رسول کی عزت وصداقت ظاہر کرنے کے لئے اور اس کے مخالفین کے عجز اور مغلوبیت جتلانے کی غرض سے اپنے ارادہ خاص سے یا اس رسول کی دعا اور درخواست سے آپ ظاہر فرماتا ہے مگر ایسے طور سے جو اس کی صفات وحدانیت و تقدس و کمال کے منافی و مغائر نہ ہو اور کسی دوسرے کی وکالت یا کارسازی کا اس میں کچھ دخل نہ ہو۔اب ہر یک دانشمند سوچ سکتا ہے کہ یہ صورت ہرگز معجزہ کی صورت نہیں کہ خدائے تعالی دائمی طور پر ایک شخص کو اجازت اور اذن دے دے کہ تو مٹی کے پرندے بنا کر پھونک مارا کر وہ حقیقت میں جانور بن جایا کریں گے اور ان میں گوشت اور بڑی اور خون اور تمام اعضا جانوروں کے بن جائیں گے۔ظاہر ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ پرندوں کے بنانے میں اپنی خالقیت کا کسی کو وکیل ٹھہر اسکتا ہے تو تمام امور خالقیت میں وکالت تامہ کا عہدہ بھی کسی کو دے سکتا ہے۔اس صورت میں خدائے تعالیٰ کی صفات میں شریک ہونا جائز ہوگا