تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 53
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۳ سورة ال عمران والا بلا شبہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اور یہ عذر کہ ہم حضرت عیسیٰ کو خدا تو نہیں مانتے بلکہ یہ مانتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے بعض اپنی خدائی کی صفتیں ان کو عطا کر دی تھیں نہایت مکروہ اور باطل عذر ہے۔ کیونکہ اگر خدائے تعالیٰ اپنے اذن اور ارادہ سے اپنی خدائی کی صفتیں بندوں کو دے سکتا ہے تو بلاشبہ وہ اپنی ساری صفتیں خدائی کی ایک بندے کو دے کر پورا خدا بنا سکتا ہے۔ پس اس صورت میں مخلوق پرستوں کے کل مذاہب سچے ٹھہر جائیں گے۔ اگر خدا تعالیٰ کسی بشر کو اپنے اذن اور ارادہ سے خالقیت کی صفت عطا کر سکتا ہے تو پھر وہ اس طرح کسی کو اذن اور ارادہ سے اپنی طرح عالم الغیب بھی بنا سکتا ہے اور اس کو ایسی قوت بخش سکتا ہے جو خدائے تعالیٰ کی طرح ہر جگہ حاضر ناظر ہو اور ظاہر ہے کہ اگر خدائی کی صفتیں بھی بندوں میں تقسیم ہو سکتی ہیں تو پھر خدائے تعالیٰ کا وحدہ لاشریک ہونا باطل ہے۔ جس قدر دنیا میں مخلوق پرست ہیں وہ بھی یہ تو نہیں کہتے کہ ہمارے معبود خدا ہیں بلکہ ان موحدوں کی طرح ان کا بھی درحقیقت یہی قول ہے کہ ہمارے معبودوں کو خدائے تعالیٰ نے خدائی کی طاقتیں دے رکھی ہیں ۔ رب اعلیٰ و برتر تو وہی ہے اور یہ صرف چھوٹے تو چھوٹے خدا ہیں ۔ تعجب کہ یہ لوگ یا رسول اللہ کہنا شرک کا کلمہ سمجھ کر منع کرتے ہیں لیکن مریم کے ایک عاجز بیٹے کو خدائی کا حصہ دار بنا رہے ہیں۔ بھائیو! آپ لوگوں کا اگر دراصل یہی مذہب ہے کہ خدائی بھی مخلوق میں تقسیم ہو سکتی ہے اور خدائے تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنی صفت خالقیت و راز قیت و عالمیت و قادریت وغیره میں ہمیشہ کے لئے شریک کر دیتا ہے تو پھر آپ لوگوں نے اپنے بدعتی بھائیوں سے اس قدر جنگ وجدل کیوں شروع کر رکھی ہے وہ بیچارے بھی تو اپنے اولیاء کو خدا کر کے نہیں مانتے صرف یہی کہتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے اپنے اذن اور ارادہ سے کچھ کچھ خدائی طاقتیں انہیں دے رکھی ہیں اور انہیں طاقتوں کی وجہ سے جو باذن الہی ان کو حاصل ہیں وہ کسی کو بیٹا دیتے ہیں اور کسی کو بیٹی اور ہر جگہ حاضر وناظر ہیں، نذریں نیازیں لیتے ہیں اور مرادیں دیتے ہیں ۔ اب اگر کوئی طالب حق یہ سوال کرے کہ اگر ایسے عقائد سراسر باطل اور مشرکانہ خیالات ہیں تو ان آیات فرقانیہ کے صحیح معنے کیا ہیں جن میں لکھا ہے کہ مسیح ابن مریم مٹی کے پرندے بنا کر پھونک اُن میں مارتا تھا تو وہ باذن الہی پرندے ہو جاتے تھے؟ سو واضح ہو کہ انبیاء کے معجزات دو قسم کے ہوتے ہیں ؟ (۱) ایک وہ جو محض سماوی امور ہوتے ہیں جن میں انسان کی تدبیر اور عقل کو کچھ دخل نہیں ہوتا جیسے شق القمر جو ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا اور خدائے تعالیٰ کی غیر محدود قدرت نے ایک راستباز اور کامل نبی کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے اس کو