تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 52
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۲ سورة ال عمران بتایا گیا ہے کہ بیٹے کے بعد وہ مالک خود آ کر باغبانوں کو ہلاک کر دے گا اور باغ دوسروں کے سپر د کر دے گا یہ اشارہ تھا اس امر کی طرف کہ نبوت ان کے خاندان سے جاتی رہی پس مسیح کا بن باپ ہونا اس امر کا ( البدر جلد اوّل نمبر ۱۰، مورخه ۲ /جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۷۵) نشان تھا۔ولا وَ رَسُولًا إِلى بَنِي إِسْرَاءِيلَ ، أَنِّي قَدْ جِئْتُكُمْ بِايَةٍ مِنْ رَّبِّكُمْ إِنِّي اَخْلُقُ لَكُم مِّنَ الطِينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَانْفُخُ فِيْهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللهِ وَ أَبْرِى الْأَكْمَهَ وَالْاَبْرَصَ وَأحْيِ الْمَوْتَى بِإِذْنِ اللهِ وَ انتُكُم بِمَا تَأكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ إِنَّ فِي ذلِكَ لَآيَةً تَكُم إِن كُنتُم ج مُّؤْمِنِين ط ج بعض لوگ موحدین کے فرقہ میں سے بحوالہ آیات قرآنی یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح ابن مریم انواع و اقسام کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر زندہ کر دیا کرتے تھے۔۔۔۔ان تمام اوہام باطلہ کا جواب یہ ہے کہ وہ آیات جن میں ایسا لکھا ہے متشابہات میں سے ہیں اور ان کے یہ معنے کرنا کہ گویا خدا تعالیٰ نے اپنے ارادہ اور اذن سے حضرت عیسی کو صفات خالقیت میں شریک کر رکھا تھا صریح الحاد اور سخت بے ایمانی ہے کیونکہ اگر خدائے تعالیٰ اپنی صفات خاصہ الوہیت بھی دوسروں کو دے سکتا ہے تو اس سے اس کی خدائی باطل ہوتی ہے اور موحد صاحب کا یہ عذر کہ ہم ایسا اعتقاد نہیں رکھتے کہ اپنی ذاتی طاقت سے حضرت عیسی خالق طیور تھے بلکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ یہ طاقت خدائے تعالیٰ نے اپنے اذان اور ارادہ سے اُن کو دے رکھی تھی اور اپنی مرضی سے ان کو اپنی خالقیت کا حصہ دار بنا دیا تھا اور یہ اس کو اختیار ہے کہ جس کو چاہے اپنا مثیل بنا دیوے قادر مطلق جو ہوا۔یہ سراسر مشرکانہ باتیں ہیں اور کفر سے بدتر۔اس موحد کو یہ بھی کہا گیا کہ کیا تم اب شناخت کر سکتے ہو کہ ان پرندوں میں سے کون سے ایسے پرندے ہیں جو خدائے تعالیٰ کے بنائے ہوئے ہیں اور کون سے ایسے پرندے ہیں جو ان پرندوں کی نسل ہیں جن کے حضرت عیسی خالق ہیں؟ تو اس نے اپنے ساکت رہنے سے یہی جواب دیا کہ میں شناخت نہیں کر سکتا۔اب واضح رہے کہ اس زمانہ کے بعض موحدین کا یہ اعتقاد کہ پرندوں کے نوع میں سے کچھ تو خدائے تعالیٰ کی مخلوق اور کچھ حضرت عیسی کی مخلوق ہے سراسر فاسد اور مشرکانہ خیال ہے اور ایسا خیال رکھنے